’ایک قتلِ عام تھا، ہر طرف زخمی اور لاشیں تھیں‘

فرانس کے جنوبی شہر نیس میں قومی دن کی تقریبات کے دوران ایک تیز رفتار ٹرک نے درجنوں افراد کو کچل دیا۔ اس واقعے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور درجنوں زخمی ہیں۔

آتش بازی کا مظاہرہ دیکھنے والوں پر ٹرک حملے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ آتش بازی سے محظوظ ہو رہے تھے کہ اچانک افراتفری مچ گئی۔

ساحل پر موجود ایک شخص نے بتایا کہ ’ہر کوئی شور مچا رہا تھا کہ بھاگو بھاگو۔ ہم نے فائرنگ کی آوازیں بھی سنیں۔ پہلے تو لگا کہ یہ آتش بازی ہے کیونکہ 14 جولائی کا دن تھا۔ بہت خوف تھا۔ ہم بھی بھاگ رہے تھے کیونکہ ہم وہاں رکنا نہیں چاہتے تھے۔ ہم اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے لیے ہوٹل میں داخل ہوئے۔‘

ایک اور عینی شاید رائے کیلے نے بی بی سی کو بتایا ’جس وقت یہ حادثہ پیش آیا تو وہاں ہزاروں افراد جمع تھے۔‘

نیس میں موجود آئر لینڈ کے سیاح گیرے او ٹولی حملے کے وقت ایک ریسیورنٹ میں کھانا کھا رہے تھے وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے دیکھا کہ ہر کوئی باہر دروازے کی جانب بھاگ رہا ہے۔ آپ لوگوں کے چہروں پر خوف دیکھ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

انھوں نے بتایا کہ ’ہم واپس مڑے اور اپنی میز کے نیچے چھپ گئے۔ ہم ساحل سے محض ایک منٹ کی مسافت پر تھے۔ مکمل افراتفری تھی۔ مجھے لگا کہ کچھ برا ہوا ہے۔ فوجی دوسری جانب بھاگ رہے تھے۔ تقریباً 15 سے 30 منٹ تک ہر کوئی بھاگتا رہا۔‘

نیس کی رہائشی واسیم نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ انھوں نے دیکھا کہ بھیٹر میں ایک ٹرک گھس آیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’سڑک پر قتل عام ہو رہا تھا۔ ہر طرح لاشیں تھیں۔‘ انھوں نے بتایا کہ کیسے ڈرائیور ٹرک سے باہر نکالا اور اُس نے فائرنگ شروع کر دی۔

نیس کے ایک سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ بہت ہی خوفناک منظر تھا اور سڑک کے ہر طرف زخمی افراد اور لاشیں پڑیں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نیس کی ہی ایک اور رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم معمول کے مطابق ساحل پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ ’ اچانک لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ وہ چیخ رہے تھے۔ اور پولیس کے سائرن بج رہے تھے اور پولیس والے فائرنگ کر رہے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ بہت خوفناک منظر تھا خاص کر کہ جب ہمیں یہ پتہ نہ ہو کہ کیا ہوا ہے؟ اُس وقت تک ہم نے صرف فائرنگ کی آواز سنی تھی۔اور ہمارے خیال میں شاید کچھ لوگ بندوقوں سے مسلح تھے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اچانک سب نے بھاگنا شروع کر دیا۔ وہاں بہت سے خاندان تھے میں ایک گاڑی کے پیچھے چھپ گئے۔ وہاں ایک ماں بیٹی بھی تھیں اور ماں اپنی کم سن بیٹی کو یہ سمجھا رہی تھی کہ کچھ نہیں ہوا اور سب صحیح ہے۔‘

اسی بارے میں