عالمی برداری کی ترکی کی جمہوری حکومت کی حمایت

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ترکی میں عوام نے فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی ناکام بنا دی ہے۔ ملک کی جمہوری حکومت نے حالات پر مکمل ’کنٹرول ‘حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے اور بغاوت کی سازش میں شامل ہے 2839 فوجیوں کو حراست میں لیا ہے۔

اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں نے ترکی کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوج بغاوت کی مذمت کی ہے۔

٭طیب اردوغان کا سیاسی سفر

٭غداروں کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی: اردوغان

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ترکی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے بعد اپنے پیغام میں لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

سیکریٹری کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ترکی میں مارشل لا لگائے جانے کی کوششوں کی رپورٹس سے باخبر ہیں اور وہاں ہونے والی پیش رفت کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹیسک نے کہا کہ ترکی میں کشیدگی بندوق کے ذریعے ختم نہیں کی جا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یورپی یونین ترکی کی منتخب جمہوری حکومت کی حمایت کرتی ہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانس نے کہا کہ انھوں نے اپنے ترک ہم منصب سے بات کی ہے اور جمہوری حکومت کو برطانیہ کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل اور امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے بھی ترکی میں فوجی بغاوت کی مذمت کی اور ترک صدر رجب طیب اردغان کی حکومت کی حمایت کی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے ترکی میں فوج کی جانب سے بغاوت کی کوشش کی مذمت کی ہے۔

نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ بغاوت کی کوشش کو ناکام بنانے میں ترکی کے عوام کا بھرپور کردار قابلِ ستائش ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان ترکی کی جمہوری حکومت کے ساتھ ہے اور اس موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور عوام کے ساتھ ہیں۔

اسی بارے میں