آرمینیا: مسلح افراد کا پولیس سٹیشن پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ androlepsy
Image caption نوگورنو قرہ باغ میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کئی عشروں کی بدترین جھڑپوں میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں

آرمینیا کے دارالحکومت یروان میں ایک مسلح گروہ نے پولیس سٹیشن پر حملہ کر کے وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا ہے اور اب تک پولیس اہلکار کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

مسلح گروہ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

جن قیدیوں کی رہا کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اس میں حزبِ اختلاف کے رہنما جیرائر سیفیلین بھی شامل ہیں۔ گروہ نے دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

پولیس سٹیشن میں عملے کو یرغمال بنانے والے گروہ نے آرمینیا کی عوام سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکل آئیں۔

خیال رہے کہ حزبِ اختلاف کے رہنما جیرائر سیفیلین نے کوہِ قاف میں واقع متنازع علاقے نوگورنو قرہ باغ میں جاری تنازعے کے حوالے سے ملک کے صدر سرگے سارکیسن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

یروان سےملنے والی اطلاعات کے مطابق پولیس سٹیشن پر ہونے والے حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایک مقامی اخبار کے مطابق اس کارروائی کے پیچھے ’ساسیون کے جانباز‘ نامی گروہ ہے۔ اخبار کے مطابق اس گروہ نے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے تاہم اس کی ابھی آذاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

دوسری طرف آرمینیا کی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے گروہ کی ساتھ ہتھیار ڈالنے کے معاملے پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔

ملک کے دفاعی ادارے نیشنل سکیورٹی سروس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ اس طرح کے ہر غیرقانونی اقدام کو ملک کے سکیورٹی ادارے کچل دیں گے اور اس میں ملوث افراد کو قانون کے کھٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

خیال رہے کہ نوگورنو قرہ باغ کا علاقہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کئی عشروں سے تنازعے کا باعث ہے۔

نوگورنو قرہ باغ 1994 میں جنگ کے خاتمے کے بعد سے آرمینی علیحدگی پسندوں کے قبضے میں ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں لڑائی شروع ہوئی تھی جو سنہ 1991 میں کھلی جنگ کی شکل اختیار کر گئی۔

سنہ 1994 میں ہونے والی جنگ بندی سے پہلے اس لڑائی میں ایک اندازے کے مطابق 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ خطہ آذربائیجان کی حدود کے اندر ہے تاہم اس پر آرمینی نسل کے لوگوں کا کنٹرول ہے۔

اسی بارے میں