جرمنی: حملہ آور کے کمرے میں دولت اسلامیہ کا جھنڈا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بویریا کے وزیرِ داخلہ یواخیم ہرمان نے بتایا کہ حملہ آور ایک 17 سالہ افغان پناہ گزین تھا

جرمنی میں حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین میں کلہاڑی اور چاقو سے حملہ کرنے والے افغان نوجوان پناہ گزین کے کمرے سے شدت پسندتنظیم دولت اسلامیہ کا ہاتھ سے پینٹ کیا ہوا جھنڈا ملا ہے۔

17 سالہ نوجوان نے جنوبی جرمنی کی ریاست بویریا کے شہر ویورسبرگ میں ایک ٹرین میں یہ حملہ پیر کی شام کو کیا۔ حملے میں ہانگ کانگ کے چار افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے تین افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

بعد میں پولیس نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ خیال رہے کہ یہ حملہ فرانس کے شہر نیس میں ہونے والے حملے کے چند دنوں بعد ہوا ہے۔

بویریا ریاست کے وزیر داخلہ یواخیم ہرمان نے جرمن ٹی کو بتایا کہ اوشینفرٹ میں اس نوجوان کے کمرے میں سامان کے درمیان سے یہ جھنڈا برآمد کیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات میں آیا تھا کہ 20 افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ 14 افراد صدمے میں ہیں اور ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

ویورسبرگ اور اوشینفرٹ کے درمیان ٹرین سروس بند کر دی گئی ہے۔

بویریا کے وزیرِ داخلہ یواخیم ہرمان نے بتایا کہ حملہ آور ایک 17 سالہ افغان پناہ گزین تھا جو قریبی قصبے اوشینفرٹ میں مقیم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انھوں نے سرکاری نشریاتی ادارے اے آر ڈی کو بتایا کہ بظاہر یہ لڑکا کسی بڑے رشتہ دار کے بغیر جرمنی آیا تھا۔

اس نوجوان نے گذشتہ سال جرمنی میں پناہ کی عرضی داخل کی تھی اور دعوی کیا تھا کہ وہ کسی کے ساتھ نہیں جس کے بعد کمیپ سے اسے ایک دوسرے خاندان کے ساتھ منتقل کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ سال جرمنی میں دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کا رجسٹریشن کیا گیا جن میں ڈیڑھ لاکھ افغان شامل ہیں۔

جرمن میڈیا میں آنے والی بعض اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے حملے کےدوران اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا۔ یواخیم ہرمان نے کہا کہ حکام اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا واقعی ایسا ہوا تھا یا نہیں۔

یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات سوا نو بجے ٹرین میں پیش آیا۔

پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ٹرین کے ذریعے ویورسبرگ پہنچنے کے بعد حملہ آور نے مسافروں پر کلہاڑی اور چاقو سے حملہ شروع کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں کو زخمی کرنے کے بعد حملہ آور ٹرین سے اتر کر بھاگ کھڑا ہوا لیکن پولیس اہلکاروں نے اس کا پیچھا کرتے ہوئے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

حملے کے محرکات کا تاحال علم نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں