ترکی: ناکام بغاوت کے بعد پولیس میں ’صفائی‘ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ترک حکام نے تقریباً آٹھ ہزار پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر گذشتہ ہفتے ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے پر معطل کر دیا ہے جبکہ پولیس کے خصوصی دستے کے 1800 ارکان استنبول میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ناکام بغاوت کے بعد سے ترکی میں عدلیہ اور فوج سے تعلق رکھنے والے 6000 افراد پہلے ہی حراست میں لیے جا چکے ہیں جن میں دو ہزار سے زیادہ جج بھی شامل ہیں۔

زیرِ حراست افراد میں 100 کے قریب فوجی جرنیل اور ایڈمرل بھی شامل ہیں۔ صدر کے اعلیٰ ترین فوجی معتمد بھی زیرِ حراست لوگوں میں شامل ہیں۔

٭ بغاوت کے وائرس کو ختم کرنے کا عمل جاری رہے گا: اردوغان

٭ ترکی میں ناکام بغاوت کی لمحہ بہ لمحہ کہانی

٭باغی فوجی اقتدار پر قبضہ کرنے میں ناکام، تصاویر

٭ عالمی برادری کی ترکی جمہوری حکومت کی حمایت

ادھر امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے جمہوری حکومت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption ناکام فوجی بغاوت کے بعد پولیس کے خصوصی دستے کے 1800 ارکان کو استنبول میں تعینات کر دیا ہے

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی وزرائے خارجہ سے ملاقات میں جان کیری کا کہنا تھا کہ امریکہ کی منتخب حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یقیناً بغاوت کے مرتکب افراد کے ساتھ انصاف کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن ہم اس بارے میں بھی خبردار کرتے ہیں کہ وہ حد سے زیادہ تجاوز نہ کریں۔‘

ادھر ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ ناکام بغاوت میں 208 افراد ’شہید‘ ہوئے جن میں 60 پولیس اہلکار، تین فوجی اور 145 عام شہری شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 1491 افراد زخمی بھی ہیں۔

بن یامین علی کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر بغاوت کی منصوبہ بندی کر نے والے 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رجب طیب اردغان کا کہنا ہے کہ ملک کی پارلیمان سزائے موت کو متعارف کروانے کی تجویز پر غور کر رہی ہے

اس سے قبل ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناتولو کا کہنا تھا کہ حکومت نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد پولیس کے خصوصی دستے کے 1800 ارکان کو استنبول میں تعینات کر دیا ہے۔

سپیشل فورسز کے یہ دستے استنبول میں گشت کر رہے ہیں اور انھیں حکم دیا گیا ہے کہ کوئی بھی ہیلی کاپٹر نظر آئے اسے مار گرایا جائے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حمایتیوں کی جانب سے موت کی سزا بحال کرنے کے مطالبے کا احترام کریں گے۔

صدر اردوغان کا کہنا ہے کہ اس بغاوت کے پیچھے جو’وائرس‘ تھا اسے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے گا۔

وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے دوران ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 290 ہو گئی ہے جن میں سے 100 سے زیادہ بغاوت کرنے والے افراد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر اردغان نے کہا ہے کہ ’ میری عظیم قوم نے بغاوت کرنے والوں کو بہترین جواب دیا ہے‘

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سازش میں حصہ لینے والے بہت سے زیرِ حراست لوگوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک ترک حکومتی عہدے دار نے بتایا کہ استنبول کے سب سے بڑے ہوائی اڈے پر لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی اور اس کے علاوہ قونیہ صوبے میں فوجی اڈے پر بھی فائرنگ کی گئی۔

6000 گرفتاریاں

اس سے قبل ملک کے وزیر برائے انصاف نے کہا تھا کہ اب تک بغاوت کی سازش میں ملوث چھ ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور مزید افراد کی گرفتاریوں کا امکان ہے۔

ترکی میں جمہوری حکومت نے حالاتِ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اب تک فوج کے کئی اعلیٰ افسران اور 2700 ججوں کو اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے دوران ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 265 ہوگئی ہے

ترکی کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح ملک کے جنوبی صوبے میں بریگیڈ کمانڈر اور 50 سے زائد فوجیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ صدر طیب اردوغان نے سازش کا ذمہ دار ملک میں پائے جانے والے ایک ’متوازی نظام‘ کو قرار دیا، جو کہ امریکی ریاست میامی میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن کی جانب واضح اشارہ تھا۔

صدر اردوغان کا الزام ہے کہ فتح اللہ ترکی میں بے چینی پیدا کرنے ذمہ دار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترکی کے وزیر برائے افرادی قوت نے یہ اشارہ دیا تھا کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا

صدر کے بیان کے جواب میں فتح اللہ گولن نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے اس الزام سے انکار کیا کہ ترکی میں ہونے والے واقعات سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ترکی میں فوجی بغاوت کے ذریعے تختہ الٹنے کی کوشش کی سخت ترین الفاظ میں ’مذمت‘ کرتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے ترکی کو تنبیہہ کی ہے کہ ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش میں امریکہ کے کردار کا دعویٰ سراسر غلط ہے اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ترکی کے وزیر برائے افرادی قوت نے یہ اشارہ دیا تھا کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا۔

اسی بارے میں