نیس حملہ آور کے پانچ مبینہ ساتھی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بوہلال کے فون سے حاصل شدہ معلومات اور تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ 2015 سے حملے کی تیاری کر رہے تھے

فرانسیسی استغاثہ کے مطابق فرانس کے شہر نیس میں ٹرک کے ذریعے حملہ کر کے 80 سے زائد لوگوں کو کچل کر ہلاک کرنے والے محمد لحویج بوہلال کو کم از کم پانچ افراد سے مدد ملی تھی۔ ان افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

وکیل استغاثہ فرانسوا مولنز نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ اس جرم کی تیاری مہینوں سے ہو رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ایک مشتبہ شخص نے حملے کے ایک روز بعد جائے وقوعہ کی فلم بندی کی تھی۔

توقع ہے کہ ان پانچوں افراد پر تیونس سے تعلق رکھنے والے بوہلال کی مدد کرنے پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

ان افراد میں چار مرد اور ایک عورت شامل ہے، اور ان کی عمریں 22 سے 40 برس کے درمیان ہیں۔ انھیں جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ان میں البانیہ سے تعلق رکھنے والا جوڑا بھی شامل ہے جس پر شک ہے کہ اس نے بوہلال کو پستول فراہم کیا تھا۔

ایک اور 22 سالہ شخص پر الزام ہے کہ اسے حملے کی رات بوہلال نے ایس ایم ایس بھیجے تھے، جن میں اسلحے کی ترسیل کا ذکر تھا۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس کو اس شخص کے گھر سے ایک کلاشنکوف رائفل ملی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بوہلال ٹرک کو ہجوم کے اندر دو کلومیٹر تک لوگوں کو روندتے ہوئے چلے گئے

بوہلال کی طرح ان میں سے کسی فرد کے بارے میں فرانسیسی انٹیلی جنس کے پاس کوئی معلومات نہیں تھیں۔

مولنز نے کہا کہ بوہلال کے فون سے حاصل شدہ معلومات اور تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ 2015 سے حملے کی تیاری کر رہے تھے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے بوہلال کو اپنا ’سپاہی‘ قرار دیا تھا، تاہم اس کا اس تنظیم سے تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔

یہ واقعہ 14 جولائی کی رات اُس وقت پیش آیا تھا جب ہزاروں افراد فرانس کے قومی دن کی تقریبات کے سلسلے میں نیس کے ساحل پر آتش بازی کا مظاہرہ دیکھ رہے تھے۔

بوہلال ٹرک کو ہجوم کے اندر دو کلومیٹر تک لوگوں کو روندتے ہوئے چلے گئے، اور ٹرک تب جا کر رکا جب پولیس نے گولی مار کر انھیں ہلاک کر دیا۔

اسی بارے میں