کرادچ کی جنگی جرائم میں سزا کے خلاف اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ججز نے انھیں جن دس الزامات میں مجرم قرار دیا تھا جس میں8000 ہزار سربوں کی نسل کشی کا جرم بھی شامل ہے

سربیا کے سابق رہنما رادون کرادچ نے جرائم کی عالمی عدالت کی جانب سے ملنے والی 40 سالہ قید کی سزا کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

ان پر دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والے بدترین مظالم ڈھانے کا الزام ہے جن میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم شامل ہیں۔

٭ ’میں نے سربوں کو بچانا چاہا‘

٭ ’جنگ کا مقصد مقدس اور منصفانہ تھا‘

٭ سزا سے مستثنیٰ رکھنے کی اپیل مسترد

خیال رہے کہ 1990 کی دہائی میں لڑی جانے والی جنگِ بلقان کے دروان مظالم ڈھانے کے جرم سمیت رادون کرادچ کو دس الزامات کے ثابت ہونے پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپنے دفاع میں رادون کرادچ نے کہا تھا کہ بوسنیا میں ہونے والے جنگی جرائم کی ذمہ داری کے الزام دینے کے بجائے انھیں لوگوں کی تکالیف دور کرنے پر انعامات سے نوازنا چاہیے

رادون کرادچ 13سال کی روپوشی کے بعد 2008 میں بلغراد سے گرفتار کیے گئے تھے۔

ان کے خلاف موجود جرائم میں سنہ 1995 میں مشرقی بوسنیا میں سربرِنتزا کا واقعہ بھی شامل تھا جس میں8000 ہزار سربوں کی نسل کشی کی گئی۔اس کے علاوہ ان کی قیادت میں بوسنیائی دارالحکومت سراجیوو کا 44 ماہ تک محاصرہ جاری رہا جس دوران 12000 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

رادون کرادچ نے اقوامِ متحدہ کے ججز پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کے مقدمے کو سیاسی بنیادوں پر دیکھا گیا۔

ان کے وکیل پیٹر روبنسن نے جمعے کو ہیگ میں اپنے بیان میں بتایا کہ ان کے موکل کا سیاسی ٹرائل کیا جا رہا ہے اور اس میں بوسنیا میں موجود سرب لوگوں پر ان کی اجارہ داری اور حاکمیت کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ مقدمہ غیر منصفانہ تھا اور ججز کا قیاس ہے کہ وہ مجرم ہیں اور اسی قیاس آرائی کی بنیاد پر ان کے خلاف سزا سنائی گئی ہے۔

اسی بارے میں