عراقی فوج کی مدد میں اضافہ کریں گے: فرانس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے اعلان کیا ہے کہ فرانس اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف جنگ میں عراقی فورسز کی مدد میں اضافہ کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ عراقی سکیورٹی فورسز کو بھاری آرٹلری آئندہ چند ہفتوں میں فراہم کر دی جائے گی اور ستمبر کے اواخر میں خطے میں فرانسیسی جہاز بردار بحری جہاز بھی پہنچا دیا جائے گا۔

فرانسیسی صدر نے یہ اعلان ایسے وقت کیا ہے جب پچھلے ہفتے ہی نیس میں ایک شخص نے ٹرک سے 84 افراد کچل دیے۔ دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ڈرائیور کو اپنا ’سپاہی‘ قرار دیا۔

تاہم صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ فرانسیسی فوج عراق نہیں بھیجی جائے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر اولاند نے کہا ’آج ڈیفنس کونسل کے اجلاس میں میں نے فیصلہ کیا ہے کہ داعش کے خلاف اتحاد کا حصہ ہونے کے باعث عراقی سکیورٹی فورسز کو ہتھیار فراہم کیے جائیں گے۔ یہ ہتھیار اگلے ماہ عراق پہنچا دیے جائیں گے۔‘

صدر کے قریبی ذرائع کے مطابق فرانس فوجی مشیر بھی عراق بھیجے گا تاکہ عراقی سکیورٹی فورسز کو دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے کی تربیت دے سکیں۔

صدر اولاند نے مزید کہا کہ فرانس ستمبر کے اواخر تک ایئر کرافٹ کیریئر بھی خطے میں بھیجے گا یاکہ ’عراق اور شام میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بمباری میں حصہ لے سکے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ فرانس عراق اور شام میں اپنے اتحادیوں کی حمایت جاری رکھے گا لیکن کارروائیوں کے لیے فوج نہیں بھیجی جائے گی۔

اسی بارے میں