حجاب میں میزبانی پر تنقید کے خلاف باضابطہ شکایت

تصویر کے کاپی رائٹ Channel 4 News
Image caption اس پروگرام کے ایڈیٹر بین ڈی پیئر کا کہنا تھا کہ فاطمہ منجی کو ’مذہبی امتیاز‘ کا نشانہ بنایا گیا ہے

برطانیہ میں چینل 4 نیوز کی میزبان رپورٹر فاطمہ منجی نے پریس کی نگرانی کے ادارے کو اخبار ’دا سن‘ کے سابق ایڈیٹر کیلون مکینزی کی جانب سے حجاب کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنانے پر شکایت کی ہے۔

اپنے مضمون میں کیلون مکینزی نے فرانس کے شہر نیس میں حملے کی ٹی وی پر کوریج کے دوران فاطمہ منجی کے حجاب پہننے پر تنقید کی تھی۔

اپنے حالیہ کام میں کیلون مکینزی کا کہنا تھا کہ ان کے خیالات ’معقول‘ تھے۔

انڈیپنڈنٹ پریس سٹینڈرڈز آرگنائزیشن (آئی پی ایس او) کا کہنا تھا کہ انھیں 1700 سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں۔

فاطمہ منجی عام طور پر حجاب پہنتی ہیں۔ انھوں نے لندن سے پروگرام کی میزبانی مشترکہ طور پر اینکر جان سنو کے ساتھ کی جو نیس سے رپورٹنگ کر رہے تھے۔

اس پروگرام کے ایڈیٹر بین ڈی پیئر کا کہنا تھا کہ فاطمہ منجی کو ’مذہبی امتیاز‘ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کل، چینل 4 نیوز کی نمائندہ فاطمہ منجی نے آئی پی ایس او میں باضابطہ شکایت کی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’دا سن‘ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اخبار اس مسئلے پر ’کوئی تبصرہ‘ نہیں کر رہا ہے

ڈی پیئر کا کہنا تھا کہ آئی ٹی این کے سربراہ جان ہارڈی نے بھی ’مزید شکایت‘ کی ہے جو ’فاطمہ کی شکایت کی حمایت کرتے ہیں۔‘

پیر کے روز مکینزی نے اپنے کالم میں یہ لکھا تھا کہ ’مجھے یقین نہیں آیا‘ جب فاطمہ منجی خبروں کا بلیٹن پیش کر رہی تھیں۔‘

کیلون مکینزی نے لکھا:’ کیا انھیں کیمرے پر ایک ایسے وقت دکھانا مناسب تھا جب ایک مسلمان نے ایک اور بھیانک حملہ کیا تھا؟‘

انھوں نے مزید کہا ’کیا یہ عام ناظرین کو دکھانا مناسب ہے جو حجاب کو مردوں کے معاشرے اور واضح طور پر پرتشدد مذہب میں عورتوں کی غلامی کی ایک علامت سمجھتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کو ایک تیز رفتار ٹرک سے ہجوم کو کچلے جانے کے واقعے میں بچوں سمیت 84 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں مسلمان بھی شامل تھے۔

’دا سن‘ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اخبار اس مسئلے پر ’کوئی تبصرہ‘ نہیں کر رہا ہے۔

اسی بارے میں