پوکے مون کے آنسو شام کے لیے

تصویر کے کاپی رائٹ Other

شام میں پانچ سال سے جاری مسلح تصادم کو ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنانے کے لیے پوکے مون گو کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

ریولیوشنری فورسز آف سیریا میڈیا آفس یعنی آر ایف ایس نے جو صدر بشار الاسد کے خلاف گروپوں کی حمایت کرتا ہے کئی فوٹو انٹرنیٹ پر ڈالی ہیں جن میں بچے اس گیم کے کردار پکاچو، سکوئرٹلز اور ویڈلز کے ہمراہ کھڑے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other

ان تمام تصاویر میں بچے کا نام اور اس کا علاقہ بھی لکھا ہوا ہے۔ جیسے مندرجہ ذیل تصویر کے نیچے لکھا ہے ’میں صوبہ ادلیب کے شہر كفرنبل سے ہوں۔ آؤ اور مجھے بچاؤ‘۔

یہ واضح نہیں ہے کہ یہ تصاویر کس صورتحال میں کھینچی گئی ہیں۔ اور اس حوالے سے آر ایف ایس نے بھی کوئی وضاحت نہیں دی۔

لیکن کفربنل ہمیشہ ہی سے عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے عمدہ بینرز اور پوسٹرز بناتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other

پوکے مون گو کی تصاویر کے پیچھے پیغام دیا جا رہا ہے کہ ’اگر آپ لوگ خیالاتی کرداروں کو پکڑنے کے لیے اتنا وقت صرف کر سکتے ہیں تو ان بچوں کو بچانے کے لیے کیوں نہیں جو جنگ میں بڑے ہو رہے ہیں‘۔

شام سے باہر بھی مختلف آرٹسٹوں نے پوکے مون کا سہارا لیا ہے۔

مصطفیٰ جانو ایک شامی ہیں جو سویڈن میں رہائش پذیر ہیں۔ انھوں نے فیس بک پر کئی پوسٹیں کی ہیں جن میں پوکے مون اس سفر پر ہے جو سفر پناہ گزینوں نے اختیار کیا تمام تر خطرات کے باوجود۔ ایک پوسٹ میں جانو نے سویڈن کے ایک ناول نگار کی تحریر کچھ اس طرح لکھی ہے ’دادا جان آپ نے 2016 کے موسم گرما میں جب دنیا میں آگ لگی ہوئی تھی کیا کیا؟ او میرے بچو، ہم فون پر پوکے مون کے کرداروں کو ڈھونڈ رہے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other