’آنسباخ خودکش بمبار دولت اسلامیہ کا حامی تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جرمنی کے حکام کا کہنا ہے کہ شہر آنسباخ میں اپنے آپ کو اڑانے والے شامی پناہ گزین کے فون سے ایک ویڈیو برآمد ہوئی ہے جس میں اس نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے رہنما کی بیعت کا اعلان کیا ہے۔

باویریا کے وزیر داخلہ جواخم ہیمن کا کہنا ہے کہ میوزک فیسٹیول کے قریب اپنے آپ کو اڑانے والے 27 سالہ شامی پناہ گزین کے مکان اور اس کی جیبوں سے دو فونز، متعدد سمیں اور لیپ ٹاپ برآمد ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ویڈیو میں اس شخص نے جرمنی سے بدلہ لینے کے لیے حملوں کا ذکر کیا ہے۔

باویریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس پناہ گزین کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کرنا تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے مکان سے بم بنانے کا مواد بھی ملا ہے جن میں پیٹرول، ہائیڈروجن پر اوکسائیڈ اور بیٹریاں شامل ہیں۔

باویریا کے وزیر داخلہ جواخم ہیمن کا کہنا ہے کہاس مواد کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ’اس کے علاوہ اس کے مکان سے سلفی تحریری مواد بھی برآمد ہوا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NEWS5

اس سے قبل وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ شامی شہری کی پناہ کی درخواست مسترد ہو چکی تھی اور اس نے موسیقی کے اوپن ایئر فیسٹیول میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر اپنے پاس موجود دھماکہ خیز مواد کو دھماکے سے اڑا دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں شامی پناہ گزین مارا گیا جبکہ دیگر 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وزیر داخلہ جواخم ہیمن کے مطابق شامی حملہ آور تقریباً دو برس پہلے جرمنی آیا تھا اور ایک برس پہلے اس کی پناہ کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ تاہم اسے اپنے آبائی ملک کے حالات بہتر ہونے تک جرمنی میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی اور ایک فلیٹ مہیا کیا گیا تھا۔

وزیر داخلہ جواخم ہیمن نے شامی پناہ گزین کے بارے میں بتایا ہے کہ یہ پہلے دو مرتبہ خودکشی کی کوشش کر چکے ہیں اور کچھ وقت نفسیاتی امراض کی کلینک میں بھی گزارا ہے۔

شام سے پناہ کے لیے آئے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد جرمنی میں مقیم ہے۔

پچھلے سال ایک لاکھ پناہ کی درخواستوں میں سے صرف 23 درخواستوں کو مسترد کیا گیا۔ یہ درخواستیں غلط معلومات فراہم کیے جانے پر مسترد کی جاتی ہیں۔

اسی بارے میں