مشیل اوباما کی ٹرمپ کے ’نفرت آمیز رویے‘ کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشیل اوباما نے کہا کہ ہلیری کلنٹن امریکہ کے صدر کے عہدے کے لیے سب سے بہتر امیدوار ہیں

امریکہ کی خاتونِ اوّل مشیل اوباما نے ڈیموکریٹک پارٹی کے نیشنل کنونشن سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مذمت کرتے ہوئے ممکنہ صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کی پر زور حمایت کی ہے۔

پُر زور تالیوں کی گونج میں ان کا کہنا تھا ’ایک عوامی شخصیت کی جانب سے ٹی وی پر نفرت آمیز زبان کا استعمال ہمارے ملک کی اصل روح کی ترجمانی نہیں کرتا۔‘

’ان کی سطح تک مت گریں۔ ہمارا مقصد ہے کہ جب وہ نیچے ہوتے ہیں تو ہم اوپر جاتے ہیں۔‘

امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہلیری کلنٹن ہی امریکہ کے صدر کے عہدے کے لیے سب سے بہتر امیدوار ہیں۔

انھوں نے کہا: ’امریکہ کے وزیر خارجہ کے طور پر ہلیری کلنٹن نے شاندار کام کیا ہے۔ وہ دباؤ میں کبھی نہیں بكھریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فلیڈلفیا میں ہونے والے کنونشن میں سینیٹر برنی سینڈرز جب سٹیج پر پہنچے تو پرجوش پارٹی کے ارکان نے ان کا زبردست خریر مقدم کیا

انھوں نے رپبلكن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلسل ٹویٹ کرنے کی عادت پر حملہ کرتے ہوئے کہا: ’ہلیری کلنٹن کو معلوم ہے کہ ہر مسئلے کو 140 حروف سے نہیں سلجھایا جا سکتا۔ جب آپ کے ہاتھ میں ایٹمی طاقت ہوتی ہے تو آپ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے۔‘

انھوں نے ماں کے طور پر اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا: ’مجھے ہلیری پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ امریکہ کے لیے بہتر ثابت ہوں گی۔ میں نے انہیں ملک کے بچوں کی بہتری کے لیے ان کے عزم کو دیکھا ہے۔‘

اس نیشنل کنونشن میں ہلیری کلنٹن کو پارٹی کی طرف سے باقاعدہ طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کا صدارتی امیدوار بنانے کا اعلان کیا جائےگا۔

اس سے پہلے امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے نیشنل کنونشن سے اپنے خطاب میں سینیئر رہنما برنی سینڈرز نے ہلیری کلنٹن کی حمایت کرتے ہوئے انھیں امریکہ کا صدر بنانے کی پرزور حمایت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیشنل کنونشن میں ہلیری کلنٹن کو پارٹی کی طرف سے باقاعدہ طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کا صدارتی امیدوار کا اعلان کیا جائےگا

برنی سینڈرز ہلیری کلنٹن کے خلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل تھے لیکن یہ بازی ہلیری کلنٹن کے ہاتھ رہی۔

ریاست پینسلوینیا کے شہر فلاڈیلفیا میں ہونے والے کنونشن میں سینیٹر برنی سینڈرز جب سٹیج پر پہنچے تو جماعت کے پرجوش ارکان نے ان کا زبردست خیر مقدم کیا۔

خطاب کے دوران انھوں نے کہا: ’امریکہ کی اگلی صدر ہلیری کلنٹن کو ہی ہونا چاہیے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ: ’جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک کے بعد ایک نسلی گروہوں کی توہین کرنے میں لگے ہوئے ہیں، ہلیری کلنٹن سمجھتی ہیں کہ ہمارا تنوع ہی ہماری عظیم طاقت ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’اگر آپ کو یقین نہیں کہ یہ انتخابات اہم ہیں، اگر آپ سوچتے ہیں کہ اس سے آپ الگ رہ سکتے ہیں تو پھر اس وقت کے متعلق سوچیں جب ڈونلڈ ٹرمپ سپریم کورٹ کے لیے ججوں کی تعیناتی کریں گے اور ذرا غور کریں پھر ہماری شہری آزادی، مساوی حقوق اور ملک کے مستقبل کا کیا ہوگا۔‘

صدارتی امیدوار بننے کی ریس کے دوران برنی سینڈرز نے کئی معاملات پر ہلیری کلنٹن کی سخت مخالفت کی تھی اور ان پر شدید نکتہ چینی کی تھی لیکن کنونشن سے اپنے خطاب میں انھوں نے ان کی زبردست انداز میں حمایت کی۔

اسی بارے میں