ارجنٹائن میں صنفی تشدد کے خلاف قومی منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ SCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption گذشتہ برس ارجنٹائن میں 235 خواتی کو صنفی تشدد کے واقعات میں قتل کر دیا گیا

ارجنٹائن کے صدر ماریسیو میکری نے خواتین پر تشدد کے خلاف ایک قومی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہر 37 ویں گھنٹے ایک عورت پر حملہ کیا جاتا ہے اور تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ثقافت میں تشدد کی اس جڑ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

* خواتین کو بااختیار بنانے کی کوشش

یہ منصوبہ اگلے سال شروع ہوگا اور اس میں خواتین کے نیٹ ورکس بنائے جائیں گے اور پر تشدد مردوں کو برقیاتی ٹیگ لگائیں جائیں گے۔

گذشتہ برس ارجنٹائن میں 235 خواتی کو صنفی تشدد کے واقعات میں قتل کر دیا گیا۔

خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے حکومت سنہ 2009 کے قائم شدہ قانون کو لاگو کرے گی۔

اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے صدر میکری کا کہنا تھا ’ہم سب کو خود سے عہد کرنا ہوگا یہ صرف حکومت کا ہی نہیں معاشرے کا بھی فرض ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

خواتین کے لیے نیشنل کونسل کی صدر ماریا فابیانا کا کہنا تھا کہ یہ منصبے تین سال تک جاری رہے گا اور اس میں سکول کے نصاب میں صنفی تشدد سے متعلق آگہی شامل ہوگی۔

منصوبے کے تحت خواتین کی مدد کے لیے قائم ہیلپ لائن کے عملے میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

یہ منصوبہ گذشتہ برس ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

یہ مظاہرے ایک 14 سالہ سکول کی طالبہ کے بعد شروع ہوئے تھے جس کی لاش قتل کے تین دن بعد ان کے بوائے فرینڈ کے گھر کے صحن سے برآمد کی گئی تھی۔

گذشتہ برس لاطینی امریکہ کے ملکوں میکسیکو، بولیویا، کولمبیا اور برازیل میں بھی صنفی تشدد کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔

اسی بارے میں