فرانس میں مذہبی مقامات کی سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فرانس کے بڑے مذاہب کے نمائندے اس ملاقات کے دوران وہاں موجود تھے

فرانس میں مذہبی رہنماؤں نے منگل کو گرجا گھر پر حملے میں ایک عمر رسیدہ پادری کی ہلاکت کے بعد مذہبی مقامات کی سکیورٹی مزید بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بات مسیحی، مسلمان، یہودی اور بودھ رہنماؤں نے فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند سے ملاقات کے بعد کہی ہے۔

خیال رہے یہ ملاقات منگل کو ایک گرجا گھر پر حملے میں ایک عمر رسیدہ پادری کی ہلاکت کے بعد ہوئی ہے۔

٭ ’یورپ کو شدت پسندوں سے کبھی اتنا سنگین خطرہ نہیں تھا‘

٭ دولتِ اسلامیہ نے چرچ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

فرانسیسی مسلمانوں کی جانب سے ابوبکر نے ’شدید غم‘ کا اظہار کرتے ہوئے اس حملے کو ’گستاخانہ بے حرمتی‘ قرار دیا۔

پیرس کے آرک بشپ آندرے ونت ٹرائس نے فرانس کے مذاہب کے درمیان یکجہتی کی تعریف کی اور کہا کہ ’ہمیں دولتِ اسلامیہ کے سیاسی کھیل سے خود کو دور رکھنا ہوگا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ چاہتی ہے کہ ایک ہی خاندان کے بچے ایک دوسرے کے مخالف ہو جائیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ اسلامی شدت پسندوں سے یورپ کو لاحق خطرات کبھی بھی اتنے سنگین نہیں تھے

اس سے قبل حملے کے بعد فرانسیسی صدر نے قوم سے متحد رہنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ طویل ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری جمہوریت نشانے پر ہے اور یہی ہماری ڈھال ہے۔ آئیں ہم متحد ہو جائیں۔ ہم یہ جنگ جیت جائیں گے۔‘

چرچ پر حملے میں پادری کے قتل کیے جانے کے بعد ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسلامی شدت پسندوں سے یورپ کو لاحق خطرات کبھی بھی اتنے سنگین نہیں تھے۔

انھوں نے دہشت گردی کو شکست دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پولیس کے پاس اس سے نمٹنے کے لیے کافی طاقت موجود ہے۔

گرجا گھر پر حملے کا واقعہ منگل کو نارمنڈی کے علاقے میں پیش آیا تھا اور پولیس نے دونوں حملہ آوروں کو گولی مار دی تھی۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی اور پولیس کے مطابق وہ دونوں حملہ آوروں کے بارے میں پہلے سے علم رکھتی تھی۔

فرانس میں انسدادِ دہشت گردی کے پراسکیوٹر نے ایک کی شناخت 19 سالہ سالہ عادل کمریکی کے طور پر کی جس کے گلے میں پولیس کی نگرانی کے لیے موجود ایک مخصوص ٹیگ حملے کے وقت سلیپ موڈ پر تھا۔

پراسیکیوٹر کے دفتر نے اسے حراست میں رکھنے کی درخواست کی تھی لیکن ایک جج نے اس فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔

جج نے حکم دیا تھا کہ اس نوجوان کو گھر میں ہی نظر بند کیا جائے اور اسے ایک برقی بینڈ پہنا دیا جائے جو یہ یقینی بنائے کہ وہ گھر میں ہی رہیں۔ لیکن یہ پابندی کام کے دنوں کی صبح کے لیے نہیں تھی یعنی منگل کی صبح وہ گرجا گھر جانے کے لیے آزاد تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرانس میں پیرس اور اس کے بعد نیس میں حملے کے بعد سکیورٹی پہلے ہی ہائی الرٹ ہے اور ملک میں نومبر سے ہنگامی حالت نافذ ہے

پراسیکیوٹر فریکوئس مولینس کا کہنا ہے کہ 19 سالہ عادل کمریکی کو گذشتہ برس دو مرتبہ اس وقت حراست میں لیا گیا جب انھوں نے شام جانے کی کوشش کی تھی۔

فرانس میں پیرس اور اس کے بعد نیس میں حملے کے بعد سکیورٹی پہلے ہی ہائی الرٹ ہے اور ملک میں نومبر سے ہنگامی حالت نافذ ہے۔

فرانس میں رواں ماہ ہی جنوبی شہر نیس میں قومی دن کی تقریبات کے موقع پر ہونے والے حملے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے گذشتہ سال ستمبر میں دارالحکومت پیرس میں ہونے والے حملوں میں130 سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ویلیمسن کا کہنا ہے کہ اس وقت فرانسیسی حکومت پر مزید حملوں کو روکنے کے حوالے سے شدید دباؤ ہے۔

اسی بارے میں