’یورپ کو شدت پسندوں سے کبھی اتنا سنگین خطرہ نہیں تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ اسلامی شدت پسندوں سے یورپ کو لاحق خطرات کبھی بھی اتنے سنگین نہیں تھے۔

انھوں نے یہ بات فرانس کے ایک چرچ پر حملے میں پادری کے قتل کیے جانے کے بعد ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے دہشت گردی کو شکست دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پولیس کے پاس اس سے نمٹنے کے لیے کافی طاقت موجود ہے۔

٭نیس حملہ آور کے پانچ مبینہ ساتھی گرفتار

٭نیس حملے کی’ذمہ دار‘دولتِ اسلامیہ، پانچ افراد گرفتار

٭ ’لوگ افسردہ لیکن زندگی چل رہی ہے‘

پولیس نے چرچ پر حملہ کرنے والے دونوں افراد کو گولی ماری دی تھی۔ دونوں ہی کے بارے میں حکام علم رکھتے تھے۔

فرانس میں انسدادِ دہشت گردی کے پراسکیوٹر نے ایک کی شناخت 19 سالہ سالہ عادل کمریکی کے طور پر کی جس کے گلے میں پولیس کی نگرانی کے لیے موجود ایک مخصوص ٹیگ حملے کے وقت سلیپ موڈ پر تھا۔

پراسیکیوٹر فریکوئس مولینس کا کہنا ہے کہ 19 سالہ عادل کمریکی کو گذشتہ برس دو مرتبہ اس وقت حراست میں لیا گیا جب انھوں نے شام جانے کی کوشش کی تھی۔

عادل اور ان کے ساتھی حملہ آور سینٹ ایٹیینے دو روورے میں واقع چرچ میں دعائیہ تقریب کے دوران داخل ہوئے اور انھوں نے چرچ کے 84 سالہ پادری اور دیگر چار افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

پولیس کی جانب سے انھیں گولی ماری گئی تاہم اس سے قبل انھوں نے پادری کا گلا کاٹ کر انھیں قتل کر دیا تھا۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ سے منسلک خبر رساں ایجنسی کے مطابق’ دولتِ اسلامیہ کے دو جنگجوؤں نے یہ حملہ کیا۔‘

مسٹر مولینس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے اپنے ہاتھ میں اسلحے کے علاوہ ایلومینیم کے کاغذ میں نقلی دھماکہ خیز مواد چھپا رکھا تھا۔

جب انھوں نے پاردی کا نشانہ بنایا تو اس دوران بہت سے لوگ وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے اور انھوں نے پولیس کا حملے سے آگاہ کیا۔

پراسیکیوٹر کے مطابق تین افراد کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا اور جب حملہ آور بھاگ رہے تھے تو وہ اللہ اکبر کے نعرے بلند کر رہے تھے۔

فرانس کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان پیری ہینری برینڈٹ نے کہا ہے کہ یرغمال بنائے جانے والے ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان پیری ہینری برینڈٹ کے مطابق ابھی تک حملے کے محرکات کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات انسداد دہشت گردی کے پراسیکیورٹرز کریں گے۔

پادری کے قتل کی عینی شاہد سسٹر دانائلی نے میڈیا کو بتایا کہ ’حملہ آوروں نے زبردستی فادر ہیمل کو گھٹنوں کے بل بٹھایا، وہ اپنا دفاع کرنا چاہتے تھے جب یہ المیہ ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

فرانس کے وزیراعظم مینوئل ویلس نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں حملے کو سفاکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ سارا فرانس اور کیتھولک زخمی ہیں، اور اب بھی ہم متحد ہیں۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف اس وقت کارروائی کی گئی جب وہ چرچ سے باہر آ رہے تھے۔

فرانس میں پیرس اور اس کے بعد نیس میں حملے کے بعد سکیورٹی پہلے ہی ہائی الرٹ ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ویلیمسن کا کہنا ہے کہ اس وقت فرانسیسی حکومت پر مزید حملوں کو روکنے کے حوالے سے شدید دباؤ ہے۔

فرانس میں رواں ماہ ہی جنوبی شہر نیس میں قومی دن کی تقریبات کے موقع پر ہونے والے حملے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے گذشتہ سال ستمبر میں دارالحکومت پیرس میں ہونے والے حملوں میں130 سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

اسی بارے میں