میکسیکو میں حمل ضائع کرانے پر 50 سال قید

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنہ 2009 سے حمل ضائع کرانے والی خواتین کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے

میکسیکو میں ایک غیر منافع بخش تنظیم کا کہنا ہے کہ از کم 700 خواتین قتل کے الزام میں قید کی سزا کاٹ رہی ہیں لیکن اصل میں انھیں اپنا حمل ضائع کروانے کی وجہ سے قید کیا گیا ہے۔

اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا 50 سال قید ہے۔

ایک خاتون سوزانا ڈیوناز روچا کے مطابق وہ 19 برس کی تھیں جب طبعیت ناساز ہونے پر وہ مرکزی میکسیکو کے شہر گوانھاتو کے کلینک میں علاج کروانے گئیں۔

انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ حاملہ تھیں۔پھر کلینک کے عملے نے انھیں بتایا کہ دراصل ان کا حمل ضائع ہو رہا تھا۔

سوزانا نے بی بی سی کو بتایا ’مجھے بس ایسے لگا کہ میرے اندر سے کچھ نکلا تھا۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ حاملہ ہونے کی وجہ سے وہ میرے خلاف رپورٹ درج کرائیں گے لیکن یہ اصلیت نہیں تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption میکسیکو میں تقریباً 700 خواتین قتل کے الزام میں قید کی سزا کاٹ رہی ہیں

سوزانا کو اپنے کسی ’رشتہ دار کو قتل‘ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ سنہ 2004 میں ایک جج نے انھیں 25 سال قید کی سزا سنائی۔

’فری وومین‘ نامی ایک میکسیکن امدادی تنظیم کے مطابق سوزانا کے مقدمے کا عمل بہت عجیب تھا۔

سوزانا کے مطابق ’وہ میرے پاس ایک صلیب لے کر آئے اور کہا کہ ان کے سامنے قسم کھاؤ کہ تمھارا بچہ ہوا ہے۔‘

پھر سوزانا کو ایک خالی صفحے پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا جو پھر اسے مقدمے کی سماعت میں اقبال جرم کے بیان کے طور پر پیش کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption سوزانا کہتی ہیں کہ انھیں کاذز کے خالی صفحے پر دستخط کرنے کے لیے زور ڈالا گیا تھا

سوزانا نے اگلے چھ سال قید میں تب تک گزارے جب تک کہ امدادی تنظیم ’فری وومین‘ نے یہ ثابت کر دیا کہ قتل کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا اور حقیقت میں سوزانا کا بچہ ضائع ہوا تھا۔

فری وومین کی ڈائریکٹر ویرانیکا کروز نے بی بی سی سے کہا کہ جیل میں قید 700 کے قریب خواتین میں سے 70 فیصد کے بچے ضائع ہوئے تھے لیکن ان پر اپنے رشتہ داروں کو قتل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے جن کی سزا زیادہ سخت ہوتی ہے۔

ملک میں بچہ خود ضائع کروانے کی سزا کم سخت ہوتی ہے جس میں پانچ سے آٹھ سال تک قید ہو سکتی ہے۔

ویرانیکا کروز کہتی ہیں کہ سنہ 2009 سے بچہ ضائع کروانے والی خواتین پر فرد جرم عائد کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سنہ 2009 میں 32 ریاستی قانون سازوں میں سے 16 نے ماں کے حمل کے آغاز سے ہی نامولود بچوں کی حفاظت کے لیے اپنے آئین میں ترمیم کی ہے۔

یہ اقدام اس وقت پیش آیا جب میکسیکو سٹی نے اُس قانون کو ختم کر دیا تھا جس کے مطابق 12 ہفتے مکمل ہونے سے پہلے حمل گرانا یا ضائع کروانا ایک جرم تھا۔

لیکن قید ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے حمل کو گرانے کا الزام کا سامنا کرنے والی خواتین شدید بدنامی کا شکار بھی ہوتی ہیں۔ سوزانا کہتی ہیں کہ قید میں ’انھوں نے مجھے کہا کہ میں ایک قاتل ہوں، کہ میں نے اپنے ہی بیٹے کا قتل کیا اور یہ بھی کہا کہ کتے بھی ایسا نہیں کرتے ہیں۔‘

قید سے رہائی ہو کے بعد بھی ان پر تنقید ختم نہیں ہوئی۔

سوزانا کہتی ہیں کہ لوگ ان پر اشارہ کر کے بری باتیں کرتے تھے اور اسی لیے انھیں وہاں سے منقتل ہونا پڑا۔‘