ترکی کی ناکام بغاوت میں ’نو ہزار فوجیوں نے حصہ لیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت کے کریک ڈاؤن میں اب تک کم از کم 16 ہزار افراد کو حراست میں ہیں

ترکی میں حکام کے مطابق 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت میں تقریباً نو ہزار فوجیوں نے حصہ لیا تھا جو ملکی افواج کا ڈیڑھ فیصد ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بغاوت میں حصہ لینے والے فوجی اہلکاروں کے پاس 35 جہاز، 37 ہیلی کاپٹر، 74 ٹینک اور تین بحری جہاز تھے۔

ترک حکومت نےگذشتہ ہفتے حکومت کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کے الزام میں گرفتار کیے گئے 99 جرنیلوں کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی تھی۔

* ’ترکی میں مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں‘

* ترکی کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں: یورپی یونین

*اردوغان کی’جوابی بغاوت‘ میں نشانے پر کون؟

دریں اثنا ترکی میں بغاوت کے بعد جاری کارروائیوں میں 47 صحافیوں کو حراست میں لینے کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

ترکی میں بغاوت کے بعد شروع ہونے والے کریک ڈاؤن میں اب تک کم از کم 16 ہزار افراد کو حراست میں ہیں جبکہ 60 ہزار سرکاری ملازمین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کو معطل کیا جا چکا ہے۔

ترک حکومت امریکہ میں مقیم مبلغ فتح االلہ گولن پر الزام عائد کرتی ہے کہ ملک میں بغاوت ان کی ایما پر کی گئی ہے تاہم وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی میں صحافیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں

بدھ کو ترکی کی فوج کے جنرل سٹاف کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق’بغاوت میں آٹھ ہزار چھ سو 51 فوجی اہلکاروں نے حصہ لیا۔ 1676 نان کمیشنڈ افسران اور فوجیوں اور 1214 رنگروٹ بھی ان میں شامل تھے۔‘

دوسری جانب حکام نے ملک میں مزید 47 صحافیوں کو حراست میں لینے کا حکم دیا ہے۔

جن صحافیوں کو حراست میں لینے کا کہا گیا ہے وہ میں سے زیادہ تر کا تعلق پابندی کا شکار اخبار زمان سے ہے۔

اس حکم سے چند دن پہلے ہی 42 نامہ نگاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔

گذشتہ سنیچر کو ہی صدر رجب طیب اردوغان نے ملک میں ایک ہزار نجی سکولوں اور 1,200 سے زائد تنظیموں کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے اور کسی شخص کو فرد جرم عائد کیے بغیر حراست میں رکھنے کی مدت میں اضافہ کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حقوق انسانی نے ترک صدر کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے

حالیہ پابندیوں کے حوالے سے صدر ادوغان کو فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، لیکن اپنے ان فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے ترکی کا کہنا ہے کہ ’صرف ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جاری ہے جن کے بارے میں سو فیصد یقین ہے کہ بغاوت کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا۔‘

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنینشل کا کہنا ہے کہ تختہ الٹنے کی کوشش کے بعد حکومت جو جائز اقدامات کر سکتی تھی ’مسٹر اردوغان اس حد سے بہت آگے جا رہے ہیں۔‘

طیب اردوغان کے کئی دیگر ناقدین نے الزام لگایا ہے کہ وہ جس طرح طاقت اپنے ہاتھوں میں مرکز کر رہے ہیں سنہ 1946 میں ترکی میں پہلے جمہوری انتخابات کے بعد سے اس کی مثال نہیں ملتی۔

اسی بارے میں