’حلب سے درجنوں خاندانوں کا محفوظ انخلا شروع‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مارچ 2011 سے شام میں شروع ہونے والے اس تنازع کے بعد سے اب تک دو لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ درجنوں خاندان محفوظ راہداریوں کے ذریعے شامی سکیورٹی فورسز کے محاصرے میں حلب شہر کے مشرقی علاقوں سے باہر نکل گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے صنا کے مطابق عام شہریوں کو بسوں کے ذریعے عارضی پناہ گاہوں میں لے جایا گیا ہے۔

ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بغص باغیوں نے بھی خود کو حکومتی فوسرز کے حوالے کر دیا ہے۔

٭ شام:’حلب سے نکلنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے‘

٭ ’شام میں میٹرنٹی ہسپتال پر بمباری نومولود بچے اور خواتین زخمی‘

شام کے سرکاری میڈیا صنا کی جانب سے جاری ہونے والی بعض تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی افراد جن میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے فوجیوں کے قریب سے گزر کر بسوں میں سوار ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ جمعرات کو شام کے اتحادی ملک روس نے اعلان کیا تھا کہ وہ انسانی بنیادوں پر تین راستے عام شہریوں اور غیر مسلح باغیوں کے لیے کھول رہا ہے جبکہ چوتھا راستہ مسلح باغیوں کے لیے ہوگا۔

اقوام متحدہ، امریکہ اور بعض امدادی اداروں نے روس کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شام میں بین القوامی امدادی ادارے سیو دی چلڈرن کے تعاون سے چلنے والے زچہ وبچہ ہسپتال پر حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے

امریکہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے عام شہریوں کے انخلا اور باغیوں کے ہتھیار ڈالنے پر زور دیا جا سکے گا۔

جمعے کے روز اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کا کہنا تھا کہ یہ راہداریاں اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہونی چاہیں اور اس دوران 48 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کی جانی چاہیے تاکہ لوگ محفوظ انداز میں ان علاقوں سے باہر نکل سکیں۔۔

دوسری جانب شام میں گذشتہ روز بین القوامی امدادی ادارے سیو دی چلڈرن کے تعاون سے چلنے والے زچہ وبچہ ہسپتال پر حملے میں دو افراد ہلاک جبکہ نومولود بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

امدادی ادارے کا کہنا تھا کہ بہت سے بچوں کو اس وقت چوٹ لگی جب دھماکے کے نتیجے میں انکیوبیٹر ٹوٹ کر زمین پر گر گئے۔

خیال رہے کہ مارچ 2011 سے شام میں شروع ہونے والے اس تنازع کے بعد سے اب تک دو لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ تین لاکھ افراد تاحال ان علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں