فرانس:گرجا گھر پر حملے کے الزام میں دو افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرانس کے علاقے نارمنڈی کے ایک گرجا گھر پر ہونے والے حملے میں 86 سالہ پادری کو ہلاک کر دیا گیا تھا

فرانس میں ایک گرجا گھر پر حملہ کر کے ایک پادری کو ہلاک کرنے کے الزام میں دو افراد کے خلاف باقاعدہ تفتیش کا آغاز ہوگیا ہے۔

ملزمان میں حملہ آوروں کا ایک کزن بھی شامل ہے۔

٭ چرچ پر حملہ کرنے والے ’دولتِ اسلامیہ کی ویڈیو میں‘

٭ دولتِ اسلامیہ نے چرچ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

30 سالہ فرید کے نامی شخص حملہ آور عبدالمالک پٹیٹجین کا کزن ہے اور اسے دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

تفتیش میں شامل دوسرے ملزم 20 سالہ جین فلپ سٹیون جے نے جون میں عبدالمالک کے ہمراہ شام کا سفر کرنے کوشش کی تھی۔

گرجا گھر پر حملے کے موقعے پر پولیس نے عبدالمالک اور ان کے ساتھی حملہ عادل کرمیکی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ منگل کو فرانس کے علاقے نارمنڈی کے ایک گرجا گھر پر ہونے والے حملے میں86 سالہ پادری فادر ژاک ہیمل کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور اس حملے کی ذمہ داری نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

پیرس میں استغاثہ نے بتایا کہ اتوار کو گرفتار کیے گئے دونوں افراد پولیس کی تحویل میں تھے۔

Image caption فرانس میں مسحیوں کے مذہبی پیشوا ڈامینیک لبرن کے بقول وہ مسلمانوں کے اس اقدام سے بہت متاثر ہوئے ہیں

دوسری جانب فرانس میں مسلمانوں نے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ملک بھر میں مسیحی مذہبی تقریبات میں شرکت کی ہے۔

فرانس میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم نے گرجا گھر پر حملے کے بعد مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ مسیحی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔

فرانسیسی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم سی ایف سی ایم کے سربراہ نے اس حوالے سے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ’ ہم سب فرانس کے مسیحی ہیں۔‘

فرانس میں مسیحی مذہبی پیشوا ڈامینیک لبرن کے بقول وہ مسلمانوں کے اس اقدام سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں