ملائیشیا میں نئے قانون سے انسانی حقوق کی پامالی کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انسانی حقوق کی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ اس سے سکیورٹی بے پناہ اختیارات حاصل ہو جائیں گے

ملائیشیا میں وزیر اعظم کو دیے جانے والے نئے سکیورٹی اختیارات پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اس سے انسانی حقوق پر قدغن لگ سکتی ہے اور جمہوریت کا گلا گھونٹا جا سکتا ہے۔

اس نئے قانون کے تحت وزیر اعظم نجیب رزاق کی سربراہی والی سکیورٹی کونسل خطرات کے پیش نظر کہیں بھی ہنگامی حالات نافذ کر سکتی ہے جس سے پولیس کو وسیع اختیارات حاصل ہو جائیں گے اور اس کے اقدامات پر کوئی بازپرس بھی نہیں ہوگی۔

نجیب رزاق نے کہا ہے کہ یہ قانون ضروری ہے کیونکہ ملائشیا کو اسلام پسند دہشت گردوں کے نیٹ ورک سے روز افزوں خطرات کا سامنا ہے۔

لیکن اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس سے انسانی حقوق کی پامالی کو ہوا ملے گی۔

اس نئے قانون کو دسمبر میں پارلیمنٹ کی منظوری ملی تھی لیکن یہ پیر سے نافذالعمل ہوا ہے۔

اب اگر وزیراعظم نجیب کی نگرانی میں کام کرنے والی کونسل مقامی سطح پر کہیں ایمرجنسی کا اعلان کرتی ہے تو سکیورٹی فورسز کرفیو نافذ کر سکتی ہیں اور انھیں گرفتاری، پکڑ دھکڑ، قرقی ضبطی اور قوت کے استعمال کے وسیع اختیارات مل جائیں گے اور انھیں اس کے لیے استثنی بھی حاصل ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے پہلے نجیب رزاق پر ون ملین فنڈ کے سلسلے میں بدعنوانی کے الزامات لگ چکے ہیں

اقوام متحدہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اسے اس قانون پر ’بہت زیادہ تشویش‘ ہے کہ اس سے انسانی حقوق کی پامالی کو ہوا ملے گی اور اظہار آزادی پر ضرب پڑ سکتی ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ملائیشیا کی حکومت کو اس قانون کے تحت ’بہت حد تک استحصال کرنے کے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔‘

کوالالمپور میں سیاسی مبصر ابراہیم سفیان کا کہنا ہے کہ اس قانون سے بہت لوگوں کو پریشانی ہوگی کیونکہ ’ملائیشیا میں اس قسم کے قانون کا پہلے سیاسی مخالفت کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے۔‘

نجیب رزاق نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ’ملائشیا کے عوام کے تحفظ اور سکیورٹی کو اولیت دینے پر کبھی معذرت خواہ نہیں ہوگی۔‘

اس معاملے میں انھوں نے نام نہاد جنگجو گروپ دولت اسلامیہ کے خطروں کا ذکر کیا جس پر پولیس نے جون میں کوالالمپور میں ہونے والے حملے کا الزام لگایا تھا۔

اسی بارے میں