ایف بی آئی اہلکار کا چینی ایجنٹ ہونے کا اعتراف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کے ایک ایجنٹ جس کے پاس اعلیٰ ترین سطح کی سکیورٹی کلیئرنس تھی نے چینی حکومت کا ایجنٹ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

چین میں پیدا ہونے والے امریکی نژاد کن شن چن نے عدالت میں حساس نوعیت کی معلومات چینی حکام کو بھیجنے کا اعتراف کیا ہے۔

٭ ’ایران میں گمشدہ امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ تھا‘

٭ ماسکو میں سی آئی اے ایجنٹ کی گرفتاری

امریکی اٹارنی کے مطابق ایف بی آئی ایجنٹ نے ’دوہری‘ غداری کے ذریعے ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

دوسری جانب کن شن چن کے وکلا کا موقف ہے کہ ان کے موکل اپنی حرکت پر ’بہت زیادہ نادم‘ ہیں اور وہ امریکہ سے محبت کرتے ہیں۔

ادھر امریکی اخبار ’دی نیو یارک ٹائمز‘ نے پلی ایگریمنٹ کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ کن شن چن کو دس برس قید کی سزا ہو سکتی ہے تاہم حکومت اور دفاع نے ان کے لیے 21 سے 27 ماہ کی ’مناست سزا‘ پر اتفاق کر لیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق واشنگٹن میں واقع چین کے سفارت خانے نے ابھی اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ 46 سالہ کن شن چن نے مارچ میں اپنی گرفتاری سے پہلے سنہ 1997 سے ایف بی آئی کے الیکٹرونکس ٹیکنیشن کے طور پر کام کیا تھا۔

امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ کن شن چن کو سنہ 2011 میں اٹلی اور فرانس کے سرکاری دورے کے دوران چین کی حکومت سے متعارف کروایا گیا تھا۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق کن شن چن پر چین کی حکومت کے کم سے کم ایک اہلکار اور چین کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی کے ساتھ ’بالواسطہ مالی مفاد‘ کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق کن شن چن نے سنہ 2013 میں ایک نامعلوم چینی اہلکار کو ایف بی آئی کی تنظیمی ساخت کا چارٹ اور اس کے دو سال بعد نگرانی ٹیکنالوجیز کی تصاویر بھیجیں تھیں۔

نائب امریکی اٹارنی کا کہنا ہے کہ کن شن چن نے ایک ایف بی آئی ایجنٹ کا شناختی کارڈ اور اس کا شیڈول بھی فراہم کیا تھا۔

اسی بارے میں