شامی بچوں کی ٹائر جلا کر نو فلائی زون بنانے کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ OPEN SOURCE
Image caption حلب کی صورتحال پر سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک تصویر

شام کے شہر حلب میں بچے ٹائروں کو جلا کر شہر پر جنگی جہازوں کے حملوں کو روکنے کے لیے نو فلائی زون قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

شامی سکیورٹی فورسز نے اس وقت شہر کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور یہاں بچےٹائروں کے دھوئیں کی تہہ بنا کر جنگی جہازوں کی زمین پر دیکھنے کی صلاحیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

* ’حلب سے درجنوں خاندانوں کا محفوظ انخلا شروع‘

*شام: ’حلب سے نکلنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے‘

حلب شہر کے کئی حصوں پر باغیوں کا قبضہ ہے اور ان کے ٹھکانوں پر جنگی جہازوں کے ذریعے شدید بمباری کی جا رہی ہے۔

باغیوں نے شہر کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے سرکاری فورسز کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

روس شامی صدر بشارالاسد کا اس جنگ میں اتحادی ہے اور وہ سرکاری فورسز کو فضائی مدد فراہم کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption بچے ٹائر جلا کر پائلٹس کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں

گذشتہ ماہ حکومتی فورسز نے حلب شہر میں باغیوں کی سپلائی کے آخری راستے پر قبضہ کر لیا تھا۔

شام کی صورتحال پر رپورٹننگ کرنے والے صحافی رامی جراح کے مطابق جلتے ہوئے ٹائر فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں کیونکہ اس سے جنگی جہازوں کے پائلٹس کی دیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی، ان کا دیہان منقسم ہوتا اور محاصرے کو ختم کرنے کے لیے جاری باغیوں کی زمینی کارروائی کے راستوں سے ان کی توجہ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

’ہر کوئی کچھ کر رہا ہے لیکن اس مزاحمت میں یہ واحد چیز ہے تو بچے کر رہے ہیں۔‘

اس مہم پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر متعدد ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں جس میں حلب کے لیے غصہ #AngerForAleppo اور حلب محاصرے #AleppoUnder میں شامل ہیں۔

شام میں امدادی تنظیموں کے اندازوں کے مطابق حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں اب بھی 25 ہزار عام شہری محصور ہیں۔

ان دن پہلے پیر کو حلب میں امدادی سامان پہنچانے کے بعد واپسی پر روس کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار تمام پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں