میامی میں زیکا وائرس کے بعد خواتین کے لیے الرٹ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption امریکہ میں اب تک اس وائرس کے 1650 کیسز سامنے آچکے ہیں

امریکہ میں حاملہ خواتین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ زیکا وائرس سے متاثرہ کاؤنٹی میامی کے متاثرہ علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔

زیکا وائرس سے متاثرہ امریکی ریاست فلوریڈا کی دو کاؤنٹیز میامی اور بروورڈ اس وائرس سے متاثرہ ہیں جبکہ مزید دس نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرین کی کل تعداد 14 ہو گئی ہے۔

٭فلوریڈا میں زیکا کے چار پراسرار کیسز

٭زیکا مچھروں پر قابو پانے میں ناکامی کا نتیجہ

زیکا وائرس سے متاثرہ افراد کو غالباً وین وڈ کے مقامی مچھروں نے کاٹا ہے۔

اس علاقے میں موجود حاملہ خواتین سے 15 جون کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنے خون کے ٹیسٹ کروائیں جبکہ ایسی خواتین جو بچہ پیدا کرنے کی خواہش رکھتی ہیں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ علاقے سے نکلنے کے بعد کم ازکم آٹھ ہفتوں تک انتظار کریں۔

فلوریڈا کے گورنر ریک سکوٹ نے ہنگامی بنیادوں پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔

سنیچر کو انگلینڈ میں عوامی صحت کے ادارے نے ماؤں سے کہا کہ وہ بلا ضرورت فلوریڈا جانے سے اجتناب کریں۔

اب تک سامنے آنے والے 14 کیسز میں سے چار افراد ایسے ہیں جو مقامی مچھروں کے کاٹنے کی وجہ سے متاثر ہوئے جبکہ دیگر دس متاثرین میں یہ مرض بیرونی علاقوں سے منتقل ہوا ہے۔

متاثرین میں دو خواتین اور 12 مرد شامل ہیں۔

دو روز قبل امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ممکنہ طور پر فلوریڈا میں سامنے آنے والے زیکا وائرس کے چار متاثرین کے کیسز ملک کے اندر موجود اس وائرس کے پہلے کیسز ہیں اور شاید یہ مقامی مچھروں سے منقتل ہوئے ہیں۔

اب تک لاطینی امریکہ اور غرب الہند سے باہر جہاں جہاں یہ وائرس موجود ہے، یا تو سفر کے باعث یا پھر جنسی عمل کے ذریعے امریکہ میں منتقل ہوا تھا۔

زیکا سے متاثر لوگ تھوڑے سے بیمار دکھائی دیتے ہیں تاہم یہ نومولود بچوں کے دماغ کو بہت بری طرح متاثر کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نومولود بچوں میں اس مرض کی منتقلی کے خدشے کے پیشِ نظر عالمی ادارہ صحت نے رواں برس فروری میں زیکا وائرس کو عالمی سطح پر ایمرجنسی نافذ کی تھی

امریکہ میں اب تک اس وائرس کے 1650 کیسز سامنے آچکے ہیں تاہم فلوریڈا کے یہ چار کیسز وہ پہلے کیسز ہیں جو جنسی عمل یا بیرون ملک سے امریکہ میں منتقل نہیں ہوئے۔

متاثرہ کاؤنٹیز میں خون کے عطیات لینے کاسلسلہ بند کر دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ پہلے سے موجود خون کے عطیات کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

اس کی تصدیق کے لیے کہ آیا یہ وائرس مچھروں سے پھیل رہا ہے یا نہیں ماہرین متاثرہ کاؤنٹیز کے 150 گز کے علاقے میں گھروں اور آبادی کا سروے کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے کے آغاز میں ہی ایک ہسپانوی خاتون کے ہاں زیکا سے متاثرہ بچے کی ولادت ہوئی اور خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ یورپ میں یہ اس قسم کا پہلا کیس ہے۔

نومولود بچوں میں اس مرض کی منتقلی کے خدشے کے پیشِ نظر عالمی ادارۂ صحت نے رواں برس فروری میں زیکا وائرس کے متعلق عالمی سطح پر ایمرجنسی نافذ کی تھی۔

اسی بارے میں