اوکسفرڈ یونیورسٹی کو ایشیائی طالب علم درکار

Image caption اوکسفرڈ یونیورسٹی جنوبی ایشیا میں خاصی معروف ہے

برطانیہ کی اوکسفرڈ یونیورسٹی کا شمار دنیا بھر کی بہترین یونیورسٹیوں میں کیا جاتا ہے لیکن گذشتہ چند برسوں میں یہاں داخلہ لینے والے ایشیائی طالب علموں کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اوکسفرڈ میں ایشیائی طالب علموں کی تعداد اتنی نہیں ہے جتنی ہونی چاہیے۔

*غیر ملکی امیگریشن روکنے کے لیے ویزے کی معیاد میں کمی

یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی نے پاکستانی اور بنگلہ دیشی نژاد برطانوی طالب علموں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک پروگرام متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹر ثمینہ خان اکسفرڈ میں انڈرگریجویٹ ایڈمیشنز اینڈ آؤٹ ریچ کی ڈائریکٹر ہیں اور انھوں نے سکول کے بچوں کے ایک گروپ کو یونیورسٹی کا دورہ کروایا۔

یہ دورہ یونیورسٹی کی جانب سے ان طالب علموں کی توجہ حاصل کی کرنے کی کوشش تھا جو عام طور پر اکسفرڈ میں داخلہ لینے کے بارے میں نہیں سوچتے۔

وہ کہتی ہیں: ’ہر جگہ قابلیت موجود ہوتے ہیں۔ آپ کس میں دلچسپی رکھتے ہیں اس کو حاصل کرنے کے متعلق ہے۔‘

یونیورسٹی میں پاکستانی، بنگلہ دیشی اور انڈین نژاد انڈرگریجویٹس طالب علموں کی تعداد برطانیہ کے سفید فام طالب علموں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے۔

سنہ 2015 میں انڈرگریجویٹ داخلوں کی شرح25 فیصد کے مقابلے 2۔11 فیصد رہی ہے۔

Image caption یونیورسٹی نے پاکستانی اور بنگلہ دیشی نژاد برطانوی طالب علموں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک پروگرام متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے

ثمینہ خان کا کہنا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے ایشین طالب علم انجینیئرنگ اور میڈیسن کی جانب زیادہ رجحان رکھتے ہیں۔

وہ تسلیم کرتی ہیں یونیورسٹی کی ساکھ کو لوگوں کے ذہنوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اوکسفرڈ کو عمومی خیالات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ’یہ پوش ہے‘ اور یہ ہر کسی کے لیے خوش آمدید کرنے والی جگہ ہے۔

اگرچہ یونیورسٹی مزید ایشیائی طالب علموں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن یونیورسٹی کے جداگانہ مستقبل کا انحصار مدیحہ خالد جیسی طالبہ پر ہے، جو ایک 13 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی ہیں اور مشرقی لندن میں رہتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ اوکسفرڈ یونیورسٹی سے میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اور اس دورے کی وجہ سے انھیں مدد ملی۔

’میں نے سوچا نہیں تھا کہ اوکسفرڈ میں تنوع ماحول ہوگا، لیکن میں حجاب پہنتی ہوں، اور یہاں تین دن قیام کے دوران بہت ساری حجاب والیوں کو دیکھا، اب میں محسوس کرتی ہوں میں یہاں صحیح رہوں گی۔‘

اوکسفرڈ یونیورسٹی جنوبی ایشیا میں خاصی معروف ہے اور اس کی وجہ صرف یہی نہیں ہے کہ سابق پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو، ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو، کرکٹر اور سیاستدان عمران خان، سابق انڈین وزیراعظم من موہن سنگھ اور ادیب وکرم سیٹھ کا یہاں سے تعلیم یافتہ ہیں۔

Image caption یونیورسٹی میں پاکستانی، بنگلہ دیشی اور انڈین نژاد انڈرگریجویٹس طالب علموں کی تعداد برطانیہ کے سفید فام طالب علموں کے مقابلے میں نصف سے بھی ہے

اوکسفرڈ میں سیاہ فام اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد 25 فیصد ہے اگر ان میں بین الاقوامی طالب اور پوسٹ گریجویٹس بھی شامل کرلیا جائے۔ لیکن برطانوی انڈرگریجویٹس میں ان کی تعداد 14 فیصد ہے۔

قمر زمان مشرقی لندن میں رہتے ہیں اور ان کے خاندان کا تعلق پاکستان سے ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’ہمیں کچھ آزمائشی لیکچرز دیے گئے جن میں میرا پسندیدہ مضمون ریاضی بھی شامل تھا۔‘

’میرے لیے یہ بہت خوشگوار تجربہ تھا کیونکہ میرے جیسے ناموافق حالات سے تعلق رکھنے والوں کو ہمیشہ ایسا موقع نہیں ملتا، اور ایسا نہیں ہے کہ ہم ہوشیار نہیں ہیں۔‘

یونیورسٹی کا اصرار ہے کہ وہ یہ رجحان تبدیل کر رہے ہیں۔ اور تین روزہ پروگرام کے اختتام پر یونیورسٹی کا یقین ہے کہ یہ درست سمت میں ایک قدم ہے۔

اسی بارے میں