صحرائے سینا میں ’دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ہلاک‘

Image caption صحرائے سینیا میں یہ جہادی گروہ سنہ 2011 سے متحرک ہیں اور انھوں نے مصری فوج کے س بیان پر کوئی در عمل نہیں دیا ہے

مصر کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے صحرائے سینا میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی شاخ کے سربراہ کو ان کے درجنوں جنگجوؤں سمیت ہلاک کر دیا ہے۔

مصری فوج کے مطابق ابو دعا الانصاری کو سینا صوبے میں فضائی حملوں میں ہلاک کیا گیا۔

ان فضائی حملوں میں العارش نامی قصبے میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا یہ علاقہ ان کا مضبوظ گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

مصر کے صحرائے سینا کے علاقوں میں شدت پسند زیادہ متحرک ہیں اور یہ سینا اور قاہرہ میں کیے جانے والے بڑے حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

مصری فوج کا کہنا تھا ’ان حملوں میں کم سے کم 45 شدت پسند مارے گئے اور درجنوں زحمی ہیں جبکہ ان کا کافی اسلحہ تباہ ہوا ہے۔‘

برگیڈیئر جنرل محمد سمیر نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایک مصدقہ اطلاع کے بعد کی جانے والی کارروائی میں انصاری مارا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصر میں سابق صدر مرسی کی سنہ 2013 میں معزولی کے بعد سے عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے

پوسٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کارروائی کب کی گئی تھی۔

صحرائے سینیا میں یہ جہادی گروہ سنہ 2011 سے متحرک ہیں اور انھوں نے مصری فوج کے اس بیان پر کوئی در عمل نہیں دیا ہے۔

مصر میں سابق صدر مرسی کی سنہ 2013 میں معزولی کے بعد سے عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔

بدھ کو صحرائے سینا کی دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک ویڈیو میں اسرائیل کو دی گئی براہِ راست دھمکی میں کہا گیا تھا کہ ’اسے جلد ہی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘

اسی بارے میں