’غزہ میں ورلڈ ویژن کے سربراہ نے حماس کو فنڈز فراہم کیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption محمد حلابی کو ایریز کی بارڈر کراسنگ پر جون میں گرفت کیا گیا تھا اور اب ان کے خلاف دہشت گردی کو فنڈ کو کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے

اسرائیل نے غزہ میں ایک عالمی خیراتی ادارے ’ورلڈ ویژن‘ کے سربراہ پر فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے لیے لاکھوں ڈالر کی بیرونی امداد منتقل کرنے کے الزام میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

اسرائیل کی سکیورٹی ایجنسی شن بیت سروسز کا کہنا ہے کہ ورلڈ ویژن چیرٹی کی جانب سے جو بھی فنڈز غزہ بھیجے گئے اس میں سے تقریباً 60 فیصد کی رقم حماس کو فراہم کی گئی۔

اس کا الزام ہے کہ خیراتی ادارے کے سربراہ محمد حلابی کو حماس نے غزہ آپریشن کے لیے ایک عشرے قبل بھرتی کیا تھا۔

لیکن خیراتی ادارے ورلڈ ویژن کا کہنا ہے کہ اسے اس بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ یہ الزامات درست ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ وہ غزہ سے متعلق اپنے آپریشن کا مستقل حساب کتاب کرتی ہے اور ان الزامات سے اسے صدمہ پہنچا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption ہر جانب سے محصور غزہ میں بیشتر افراد بیرونی امداد پر مجبور ہیں

تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس بارے میں ہمیں جو بھی شواہد فراہم کیے جائیں گے ہم اس کا بڑی احتیاط سے جائزہ لیں گے اور شواہد کی بنیاد پر مناسب اقدامات کریں گے۔‘

اسرائیل امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک حماس کو ایک شدت پسند تنظیم مانتے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس کے ایک ترجمان سمیع ظہری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسٹر حلابی سے ان کی تنظیم کا کوئی واسطہ نہیں ہے اس لیے اسرائیل کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور اس کا مقصد ہمارے لوگوں کو دبانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

مسٹر حلابی پر انھیں الزامات کے پس منظر میں آسٹریلیا نے ورلڈ ویژن کو اس وقت تک امداد نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جب تک اس معاملے کی تفتیش مکمل نہیں ہوجاتی۔

شن بیت کا کہنا ہے کہ محمد حلابی کو ایریز کی بارڈر کراسنگ پر جون میں گرفت کیا گیا تھا اور اب ان کے خلاف دہشت گردی کو فنڈ کو کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں