فرانس کے بار میں آگ لگنے سے 13 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

فرانس کے مغربی شہر روئین کے ایک بار میں سالگرہ کی تقریب کے دوران کیک پر لگی موم بتیوں کے نتیجے میں آگ لگنے سے کم سے کم 13 افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے افراد کی عمریں 18 سے 25 سال کے درمیان ہیں جبکہ زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ برنارد کیزینیو کا کہنا ہے کہ کیوبا لبری نامی بار کے بیسمینٹ روم میں جمعے اور سنیچر کی رات کو آک لگی۔

حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے 50 سے زائد فائر فائیٹرز کو طلب کیا گیا۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ برنارد کیزینیو کے مطابق اس حوالے سے تحقیق کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق آگ لگنے کی وجہ کیک پر رکھی جانے والی موم بتیاں تھیں۔

ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ آگ سیلنگ میں لگی اور لوگوں کی ہلاکتیں ممکنہ طور پر چھت میں استعمال ہونے والے مادے سے نکلنی والی زہریلی گیسوں کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

فرانس کے وزیر اعظم مینویل ویلز نے اس حادثے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’اس المیے پرگہرا افسوس ہے جس نے 13 نوجوانوں کی جان لے لی۔

اس دوران حکام نے ان فائر فائٹرز کی اس بات کے لیے تعریف کی ہے کہ انھوں نے فوری کارروائی کرکے اس پر قابو پا لیا اور اس آگ کو مزید بڑھنے نہیں دیا ورنہ زیادہ نقصان ہو سکتا تھا۔

اسی بارے میں