تھائی لینڈ میں فوجی کمیٹی کا لکھا آئین منظور ہو گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آزاد انتخابی مبصروں نے ووٹ کی نگرانی کی اجازت مانگی تھی لیکن الیکشن کمیشن نے انھیں یہ اجازت نہیں دی

تھائی لینڈ میں ووٹروں کی واضح اکثریت نے فوج کی نامزد کمیٹی کے لکھے ہوئے آئین کے مسودے کی حمایت کی ہے، اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 61.45 ووٹروں نے اس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

تھائی فوج نے 2014 میں کئی ماہ کے سیاسی عدم استحکام اور تشدد کے واقعات کے بعد برسرِ اقتدار آنے پر پرانے آئین کو معطل کر دیا تھا۔

تھائی لینڈ کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ریفرینڈم میں نئے آئین کو قبول کر لیا گیا تو یہ مکمل جمہوریت کی جانب اہم قدم ہوگا۔

تاہم مخالفین ووٹنگ کو غیر شفاف قرار دے رہے ہیں ان کے بقول اس مجوزہ آئین کے مخالفین کو مہم چلانے کی مکمل آزادی نہیں دی گئی۔

نئے مسودے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں استحکام آئے گا، جب کہ دوسری جانب ناقدین کہتے ہیں کہ اس سے ملک پر فوج کا غلبہ مزید پکا ہو جائے گا۔

نسبتاً کم لوگوں نے رائے شماری میں حصہ لیا، جس کے دوران انھوں نے ایک اور نکتے پر بھی رائے دی جس کے تحت سینیٹ کو نئے وزیرِ اعظم کے انتخاب میں شامل ہونے کا اختیار مل جائے گا۔

ریفرینڈم سے قبل ملک میں اس کے خلاف کسی قسم کی مہم چلانے پر پابندی تھی اور درجنوں لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ تھائی لینڈ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت نے اس کی مخالفت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مخالفین ووٹنگ کو غیر شفاف قرار رہے ہیں کیونکہ اس کے لیے مہم سازی کو محدود رکھا گيا ہے

امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دو لاکھ سے زیادہ افراد تعینات کیے گئے تھے، البتہ احتجاج کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

غیرجانبدار مبصر گروپوں نے ووٹنگ کے عمل کی نگرانی کی درخواست کی تھی لیکن الیکشن کمیشن نے اس کی اجازت نہیں دی۔

بینکاک سے ہمارے نمائندے جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ جس طرح سے فوجی حکام ریفرینڈم کرا رہے ہیں اسے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا ہے۔

اس کے نتیجے میں آئین کے مسودے کے بارے میں لوگوں کو بہت کم معلومات ہیں یا وہ اس سے بالکل لاعلم ہیں کہ آخر اس میں ہے کیا۔

جس ایکٹ کے تحت یہ ریفرینڈم کرایا جا رہا ہے اس کی رو سے اس کے متن، تصاویر یا آواز کو مشتہر کرنا جرم قرار دیا گيا ہے۔

اسی بارے میں