’نئے ممبران کو ووٹنگ کا حق‘، لیبر پارٹی اپیل کرے گی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لیبر پارٹی کا نیا سربراہ 24 ستمبر سے قبل منتخب کر لیا جائے گا

برطانیہ کی سیاسی جماعت لیبر پارٹی نے جماعت کے سربراہ کے انتخابات میں نئے پارٹی ممبران کو ووٹ کا حق دینے کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت آئندہ جمعرات کو ہوگی۔

پیر کے روز یائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ 12 جنوری کے بعد جماعت کی رکنیت حاصل کرنے والے افراد پارٹی کے نئے سربراہ کے انتخاب میں ووٹ دے سکیں گے۔

اس سے قبل پارٹی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ رواں برس جنوری کے بعد پارٹی کے رکن بننے والے افراد صرف اسی صورت میں جماعت کے سربراہ کے چناؤ کے لیے ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے اگر وہ اضافی 25 پاؤنڈ فیس ادا کریں۔

عدالتی فیصلے کے بعد تقریباً مزید 150,000 افراد لیبر پارٹی کے سربراہ کو منتخب کرنے کے لیے ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہو جائیں گے۔

عام خیال ہے کہ نئے ممبران کو ووٹ کا حق ملنے سے موجودہ سربراہ جرمی کوربن کو فائدہ پہنچے گا۔

یہی وجہ ہے کہ جرمی کوربن کے مدِ مقابل لیبر پارٹی کی صدارت کے امیدوار اوون سمتھ بھی نئے ممبران کو اضافی فیس کی ادائیگی کے بغیر ووٹ کا حق دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

لیبر پارٹی کا نیا سربراہ 24 ستمبر سے قبل منتخب کر لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے ریفرینڈم کے بعد لیبر پارٹی میں ایک قسم کا سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا اور جماعت کے بہت سے اراکینِ پارلیمان نے جرمی کوربن سے جماعت کی صدارت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس صورتحال کے پیشِ نظر جرمی کوربن نے جماعت کے نئے سربراہ کے انتخاب کے لیے الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے ساتھ انتخاب میں دوبارہ بطور امیدوار کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں