برطانیہ میں احمدی دکاندار کو قتل کرنے والے کو عمر قید

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption اسد شاہ نے اپنے عقائد اور مذہبی خیالات سے متعلق سینکڑوں ویڈیوز فیس بک اور یو ٹیوب پر اپ لوڈ کر رکھی تھیں

برطانیہ کے شہر گلاسگو میں ایک دکان دار کو ’توہینِ مذہب‘ پر قتل کرنے والے شخص کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

بریڈ فورڈ یاک شائر سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ تنویر احمد نے اسد شاہ نامی دکاندار کو کو 24 مارچ کو چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا تھا۔اسد شاہ کا تعلق جماعت احمدیہ سے تھا۔

تنویر احمد کے بقول اسد شاہ نے اپنے مذہبی خیالات پر مبنی ویڈیو آن لائن پوسٹ کی تھیں جس کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔

تنویر احمد کو کم سے کم 27 برس قید کاٹنی ہوگی۔ تنویر احمد پر گذشتہ ماہ گلاسگو کی ہائی گورٹ نے قتل کی فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ منگل کو اسی عدالت نے انھیں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

Image caption عدالت کو بتایا گیا کہ بعض ویڈیوز میں اسد شاہ کے خیالات سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ پیغمبری کا دعوی کر رہے ہیں

جج نے کہا کہ وہ ایک ’امن پسند شخص کے سفاک قتل اور تشدد‘ کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

عدالت کو اس سے پہلے بتایا گیا تھا کہ تنویر احمد ایک ٹیکسی ڈرائیور ہیں اور انھیں قتل سے چند دن پہلے اسد شاہ کا فیس بک اکاؤنٹ دکھایا گیا جہاں انھوں نے ویڈیوز پوسٹ کی تھیں۔

دکاندار اسد شاہ نے اپنے عقائد اور مذہبی خیالات سے متعلق سینکڑوں ویڈیوز فیس بک اور یو ٹیوب پر اپ لوڈ کر رکھی تھیں۔ یہ ویڈیوز ان کی اپنی دکان میں ہی بنائی گئی تھیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ بعض ویڈیوز میں اسد شاہ کے خیالات سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ پیغمبری کا دعوی کر رہے ہیں۔

اسد شاہ پاکستان کے علاقے ربوہ میں پیدا ہوئے لیکن ان کے مذہبی عقائد کی وجہ سے ان کا خاندان سکاٹ لینڈ منتقل ہوگیا تھا جہاں برطانیہ نے انھیں پناہ دے دی تھی۔

عدالت کو بتایا گیا اسد شاہ کو ان کی ہی دکان میں جا کر چاقو کے پے در پے وار کر کے قتل کرنے کے بعد تنویر شاہ پر سکون انداز میں قریبی بس سٹاپ پر جا کر پرسکون انداز میں بیٹھ گئے۔ انھوں نے گرفتار کرنے والے پولیس اہلکار سے کہا ’آپ جو کر رہے ہیں میں اس کا احترام کرتا ہوں۔ میں آپ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔‘

’میں نے قانون توڑا ہے اس لیے جو آپ میرے ساتھ کر رہے ہیں میں اس کا احترام کرتا ہوں۔‘

اسی بارے میں