ٹرمپ کو ہلیری کے خلاف بیان پر سخت تنقید کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ AP

رپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت تنقید کی جا رہی ہے جس میں انھوں نے اپنے حمایتیوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے اسلحہ رکھنے کے حقوق استعمال کرتے ہوئے ان کی حریف ہلیری کلنٹن کو روک سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن آئندہ نومبر میں صدارت کے عہدے کے لیے جیتنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ سپریم کورٹ میں لبرل ججوں کو لا سکتی ہیں۔

* ’ٹرمپ میں کردار، اقدار اور تجربے کی کمی ہے‘

* رپبلکنز میں اختلافات، ’ٹرمپ ذہنی طور پر غیر متوازن ہیں‘

شمالی کیرولائنا میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ اسلحہ رکھنے کے حقوق کی وکالت کرنے والے ہلیری کلنٹن کو اقدار میں آنے سے روک سکتے ہیں۔

ان کے اس بیان کے بعد آن لائن تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا جن میں لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حامیوں کو تشدد پر اکسا رہے ہیں۔

تاہم ان کی مہم کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مقصد گن رائٹ کی حمایت کرنے والوں کو بیلٹ باکس تک لانا ہے تاکہ سیاسی طور پر تبدیلی آ سکے۔

ریپلکن کے صدارتی امیدوار کا کہنا تھا کہ ’ہلیری کلنٹن اصل میں دوسری ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہیں، اگر کسی طرح وہ صدر بن گئیں تو پھر وہی ججوں کا انتخاب کریں گی، اور آپ کچھ نہیں کر سکتے۔‘

امریکی آئین میں دوسری ترمیم اسلحہ رکھنے کے حق کی یقین دہانی دلاتی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر تیزی سے ردعمل کا اظہار کیا، اور اپنے تبصروں میں لکھا کہ ’ایسا دکھائی دیتا ہے کہ رپبلکن امیدوار اسلحے سے تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔‘

امریکی ریاست کنیٹیکٹ کے سینیٹر کرس مرفی کے ایک ٹویٹ میں کہا کہ غیر مستحکم لوگ، جو کلنٹن سے نفرت کرتے ہیں، وہ اس پر حرکت میں آ سکتے ہیں۔

ہلیری کلنٹن کی مہم کے مینیجر رابی موک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تازہ بیان کے حوالے سے کہا کہ ’جو ٹرمپ کہہ رہے ہیں وہ خطرناک ہے۔‘

اسی بارے میں