’میرا بچہ جل کر سیاہ ہو چکا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

عراقی شہر بغداد کے ایک ہسپتال میں آگ لگنے سے ہلاک ہونے والے نومولود بچوں کے والدین نے اپنے نقصان کے بارے میں بتایا ہے۔ ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ انھیں جب ان کے بچے کی باقیات دی گئیں تو وہ اسے پہچان نہ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا بچہ جل کر سیاہ ہو چکا تھا۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 12 نومولود بچے اس آگے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ ان کے خیال میں آگ لگنے کی وجہ بجلی کی تاریں ہو سکتی ہیں۔

ان کے علاوہ آٹھ دیگر بچوں اور 29 خواتین کو اس یونٹ سے قریبی ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔

یہ وقعہ شہر کے مغرب میں ہرموک ہسپتال کے میٹرنٹی یونٹ میں پیش آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بجلی کی تاروں کی وجہ سے آگ لگنا عراق میں عام ہے جس کی وجہ ان کی ٹھیک سے مرمت نہ ہونا اور ناقص وائرنگ ہے۔ اس کے علاوہ عمارتوں میں ہنگامی راستے نہ ہونے کی وجہ سے بھی صورتحال انتہائی خطرناک ہو جاتی ہے۔

36 سالہ شائمہ حسین اور ان کے شوہر اس وقت ہسپتال میں اپنے دو دن کے بچے کو دیکھنے کے لیے جا رہے تھے کہ اچانک آگ لگ گئی۔ شدید دھویں کی وجہ سے ان کا راستہ بند ہو گیا تھا۔

شائمہ حسین اس وقت وہاں سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوئیں جب کسی نہ کھڑکی توڑ کر وہاں سے نکلنے میں ان کی مدد کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے زخمیوں کی طرف دیکھا، وہ جھلس چکے تھے، وہ انتہائی درد ناک نظارہ تھا۔‘

’میرے لیے بچہ پیدا کرنا بہت مشکل تھا، مجھے اس کے لیے علاج کروانا پڑا تھا، اور اس تمام کوششوں کے بعد مجھے جلا ہوا بچہ ملا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ان کے علاوہ ایک اور خاتون ام احمد اپنے رشتہ دار کے بچے کو تلاش کر رہی تھیں۔

ام احمد نے بتایا: ’انھوں نے مجھے کہا کہ بچے کو جا کر فریج میں تلاش کریں۔‘

’مجھے یہ بچہ ایک کارڈبورڈ کے ڈبے میں ملا لیکن مجھے نہیں پتا کہ یہ ہمارا ہی بچہ ہے یا سپنج کا ایک ٹکڑا ہے۔ وہ بالکل کوئلے جیسا دکھائی دے رہا تھا۔‘

30 سالہ حسین عمر کو ڈر ہے کہ ایک ہفتہ قبل پیدا ہونے والے ان کے جڑواں بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

حسین عمر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ نے ان سے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو بغداد کے دیگر ہسپتالوں میں تلاش کریں، لیکن انھیں بچے نہیں ملے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کا کہنا تھا کہ ’میں بچوں کی ماں کو نہیں بتا سکتا کیونکہ وہ ابھی آپریشن کے بعد صحتیاب ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

’میں اپنے بچے اور بچی کو واپس چاہتے ہوں، حکومت کو انھیں مجھے واپس دینا ہی ہوگا۔‘

عشرق احمد جاسر جو کہ چار دن قبل پیدا ہونے والے اپنے بھتیجے کو تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں، اس حادثے کے لیے حکومت کو الزام دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ہسپتال میں کام کرنے والوں کو ہزاروں عراقی دینار دیتے ہیں تاکہ وہ ہمیں اندر جا کر اپنے پیاروں کو دودھ اور خوراک جیسے بنیادی اشیا فراہم کر سکیں، جو کہ وہ مہیا نہیں کرتے۔‘

’یہ ایک بدعنوان حکومت ہے جسے اپنے شہریوں کی کوئی پروا نہیں ہے اور اس نے ایسا ہونے دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

وزارت صحت کے مشیر ڈاکٹر امیر المختار نے بتایا کہ آدھی رات کو جب یہ آگ لگی تو اس وقت میٹرنٹی یونٹ میں 20 بچے موجود تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ آگ کے شعلے انتہائی تیزی کے ساتھ پھیل گئے جس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا۔

وزارت صحت ہی کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بچ جانے والے 19 بچوں اور خواتین کو آگ سے جلنے اور دھواں اندر جانے کی وجہ سے طبی امداد کی ضرورت ہے۔

بغداد میں محکمہ صحت کے ایک اہلکار جاسم الحجامی کے حوالے سے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ ’یہ ہسپتال بہت پرانا ہے اور اس میں آگ بجھانے کے آلات بھی نہیں ہیں۔‘

اسی بارے میں