بچوں کو ’ویگن‘ خوراک کھلانے پر جیل کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اٹلی میں حال ہی میں بچوں میں غذائیت کی کمی کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔

اطالوی پارلیمان نے اگر ایک متنازع بل منظور کر لیا تو اس کے مطابق ملک میں ایسے والدین جیل بھیج دیے جا سکتے ہیں جو اپنے بچوں کو گوشت اور جانوروں سے حاصل کی گئی خوراک نہ کھلانے پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔

مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ ایسے والدین خوراک کو بچوں کی صحتمندانہ اور متوازن نشونما کے لیے ضروری عناصر سے عاری کر رہے ہیں۔ یہ بل فورزا اٹالیہ پارٹی کی الویرا ساوینو کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اٹلی میں حال ہی میں بچوں میں غذائیت کی کمی کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔

اٹلی میں گذشتہ 18 ماہ کے دوران چار ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جہاں ’ویگن‘ خوراک کھانے والے بچوں کو غذائیت کی کمی کے باعث ہسپتال میں داخل کروانا پڑا۔

تاہم کچھ ماہر خوراک جیسا کہ امریکن ڈائٹیٹک ایسوسی ایشن کا کہنا ہے ویگن خوراک بچوں کے لیے مناسب ہے تاہم وہ یہ مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کو ہر قسم کی قوت بخش خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے خاص طور پر وٹامن بی 12 کو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ویگن ازم میں انڈے اور دودھ کا استعمال بھی نہیں کر سکتے

ڈاکٹروں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ کچھ معاملوں میں ہسپتال منتقل کیے جانے والے بچوں کے والدین یا سرپرست کو یہ معلوم نہیں تھا کہ بچوں کو محفوظ ’ویگن‘ غذا کیسے فراہم کی جائے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ممکنہ طور پر رواں سال کے اواخر میں الویرا ساوینو کا مجوزہ بل پر بحث سے قبل پارلیمانی کمیٹیاں اس پر بحث کریں گی۔

دوسری جانب تین مزید بل پیش کیےگئے ہیں جن میں اٹلی میں کینٹیوں سے ویجن اور سبزی خوری پر مشتمل کھانوں کا حصول ممکن بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

بل میں بچوں کو سختی سے ویگن خوراک کھلانے والدین کو بچے میں پیدا ہونے والی بیماری کی صورت میں چار سال اور بچے کی موت پر چھ سال قید تجویز کی گئی ہے۔

اسی بارے میں