کینیڈا میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن، مشتبہ شخص ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عدالتی حکم پر آرون ڈرائیور کی سرگرمیوں کو محدود رکھا گیا تھا

اطلاعات کے مطابق پولیس نے کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں انسدادِ دہشت گردی کے آپریشن کے دوران ایک مشتبہ شخص کو ہلاک کر دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ’یہ کارروائی‘ ایک مشتبہ شخص کے لیے کی گئی۔

پولیس کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے مشتبہ شخص کا نام آرون ڈرائیور تھا اور اُسے گذشتہ سال سوشل میڈیا پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے ایک سینیئر آفیسر نے کینیڈا کے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ مشتبہ شخص مبینہ طور پر عوامی مقام پر مبینہ طور پر خودکش بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں دہشت گرد حملوں کے بارے میں ’مصدقہ اطلاعات‘ ملیں ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مشتبہ شخص کی شناخت کی گئی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ عوام کو کوئی خطرہ نہ ہو تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔‘

سی بی سی نیوز کا کہنا ہے کہ آرون ڈرائیور کے خاندان نے اُن کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

خاندان کے مطابق پولیس نے مطلع کیا ہے کہ دھماکہ خیر مواد پھٹنے سے وہ اور ایک اور شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مشتبہ شخص ایک اور دھماکہ خیز مواد کو اُڑانا چاہتا تھا اس لیے پولیس نے اُسے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ ’یہ کارروائی‘ ایک مشتبہ شخص کے لیے کی گئی

مذہب تبدیل کر کے اسلام قبول کرنے والے آرون ڈرائیور پر پولیس حکام نے سنہ 2014 اُس وقت نگرانی بڑھا دی جب انھوں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے حق میں ٹویٹ کی تھی۔

جولائی 2015 میں پولیس نے انھیں حراست میں لینے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا جس میں اُن کی منصوبہ بندی کے بارے میں پتہ چل سکا۔

اُس وقت آرون پر فرد جرم عائد نہیں کیا گیا تھا اور انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

سی بی سی کے مطابق رہائی کے وقت پولیس نے اُن پر نظر رکھنے کے لیے انھیں جی پی ایس بریسلیٹ پہنایا تھا اور اُن کی کاؤنسلنگ بھی گئی۔

اُن کا جی پی ایس بیرسلیٹ فروری میں اُتار لیا گیا اور عدالتی حکم کی مطابق اُن کی سرگرمیوں کو محدود رکھا گیا۔ آرون ڈرائیور پر کمپیوٹر، موبائل فون اور سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی تھی۔

آروان ڈرائیور پر عائد پابندیوں کی معیاد رواں سال دسمبر میں ختم ہو رہی تھی اور اُن کے خلاف سماعت شروع کرنے کی باقاعدہ منصوبے بندی نہیں کی گئی تھی۔

اسی بارے میں