شام: حلب میں ’کلورین گیس کے حملے‘ کی تحقیقات

Image caption ویڈیو میں مردوں، خواتین اور بچوں کو طبی عملے کی جانب سے آکسیجن ماکس پہناتے دیکھایا گیا ہے

اقوام متحدہ شام کے شہر حلب میں باغیوں کے زیرانتظام علاقے میں کلورین گیس کے حملے کے شواہد کی تحقیقات کر رہی ہے۔

حکومت مخالف باغیوں کا کہنا ہے کہ حکومتی فوجوں کی جانب سے کلوین گیس کا حملہ کیا گیا جس میں مبینہ طور پر چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام کا کہنا ہے کہ اگر کلورین گیس کی تصدیق ہوگئی تو یہ جنگی جرم کے برابر ہوگا۔

بی بی سی موصول ہونے والی ایک وڈیو میں لوگوں کو ہسپتال میں علاج کے دوران سانس کی تکلیف میں مبتلا دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو میں مردوں، خواتین اور بچوں کو طبی عملے کی جانب سے آکسیجن ماکس پہناتے دیکھایا گیا ہے۔

حکومت مخالف باغیوں کے زیرانتظام علاقوں میں سرگرم سیرین سول ڈیفنس کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ یہ خیال کیا جارہا ہے کہ کلورین کو بیرل بم کے ذریعے گرایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ایلچی سٹیفن ڈی مستورا نے تصدیق کی ہے کہ اقوام متحدہ حلب میں گرائی جانے والی اس گیس کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ کلورین تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حالیہ چند دنوں سے حلب میں حکومتی فوجوں اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جارہی ہیں

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ایسے بہت سے شواہد موجود ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ جنگی جرم ہوگا اور اس پر ہر کسی کو توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔‘

کلورین کے بطور ہتھیار استعمال پر کیمیکل ویپنز کنونشن کی جانب پابندی عائد ہے۔

خیال ہے کہ اس سے سنہ 2013 میں بھی بی بی سی ایسے شواہد ملے تھے جس میں سراقب کے رہائشیوں پر حکومتی ہیلی کاپٹروں کی جانب سے کیمیکل حملے ظاہر ہوئے تھے تاہم شامی حکام اس کی تردید کرتی ہے۔

دوسری جانب حالیہ چند دنوں سے حلب میں مغربی راستے سے داخل ہونے والی حکومتی فوجوں اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جارہی ہیں۔

اسی بارے میں