ترک پولیس کے استنبول میں عدالتوں پر چھاپے

ترک حکومت نے ملک میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو گرفتار اور نوکریوں سے برخاست یا معطل کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن

ترک حکومت نے ملک میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو گرفتار اور نوکریوں سے برخاست یا معطل کیا ہے

ترکی میں گذشتہ ماہ ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس نے استنبول کی تین عدالتوں پر چھاپے مارے ہیں۔

اس سے قبل ترک حکام نے 170 سے زیادہ عدالتی عملے کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جن افراد کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں ان میں پراسیکیوٹرز یعنی حکومتی وکلا بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان چھاپوں کے دوران متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

مقامی خبر رساں ادارے دوگن کے بقول گرفتار افراد کو استنبول کے مختلف پولیس سٹیشنز میں منتقل کر دیا گیا ہے اور گرفتار افراد کے گھروں کی بھی تلاشی لی جا رہی ہے۔

ترک حکومت کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ ماہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے پیچھے امریکہ میں جلاوطنی اختیار کرنے والے ترک مبلغ فتح اللہ گولن اور حکومتی عہدوں پر فائز ان کے حامیوں کا ہاتھ ہے تاہم فتح اللہ گولن اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ ناکام بغاوت کے بعد سے ترک حکومت نے ملک میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو گرفتار اور نوکریوں سے برخاست یا معطل کیا ہے۔

حال ہی میں ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا تھا کہ ناکام بغاوت کے بعد 5000 سرکاری ملازمین کو برخاست اور 77 ہزار کو معطل کیا جا چکا ہے۔

ترک حکومت نے مقامی میڈیا کے ایسے 140 سے زیادہ ایسے ادارے بھی بند کر دیےہیں جن پر امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے والے ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے حامی ہونے کا شبہ تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے روائٹر کے مطابق استبنول کے چیف پراسیکیوٹر نے حال ہی میں امریکہ کو خط ارساں کیا ہے جس میں امریکہ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ فتح اللہ گولن کو اپنی تحویل میں لے لے۔