بچی کے اِغوا پر خاتون کو دس سال قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption زفینی جن کی عمر اب 19 سال ہے اپنے حقیقی والدین سے تعلق نہیں رکھنا چاہتیں

جنوبی افریقہ میں ایک خاتون کو ایک بچی اغوا کرنے کے جرم میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انھوں نے 19 سال قبل ایک بچی کو اغوا کر کے اپنی بیٹی بنا کر پالا تھا۔

خاتون جن کی عمر اس وقت 51 برس ہے کو گذشتہ سال حراست میں لیا گیا تھا جب ان کے اردگرد موجود لوگوں نے ان کی بیٹی ’زیفینی نرس‘ اور سکول میں موجود ایک اور لڑکی کے درمیان غیرمعمولی مماثلت نوٹ کی۔

بعدازاں پولیس کی جانب سے دونوں لڑکیوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جانے کے بعد یہ حقیقت کھلی کہ وہ دونوں بہنیں ہیں۔

مقدمے کے وکیل جج جان ہلوف نے زیفینی کو اغوا کرنے والی خاتون سے کہا کہ انھوں نے بچی کو دھوکہ دیا ہے۔

اغوا ہونے والی بچی کا نام ان کے تحفظ کی خاطر ظاہر نہیں کیا گیا جبکہ ان کے حقیقی والدین سلیسٹی اور نرس مورنی انھیں زیفینی کہہ کر بلا رہے تھے۔

سزا پانے والی خاتون کا نام بھی ظاہر نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بچی کے حقیقی والدین ہر سال اس کی سالگرہ مناتے تھے

مقامی میڈیا پر اس سے پہلے بتایا گیا تھا کہ زیفینی حقیقی والدین سے تعلق نہیں رکھنا چاہتیں اور وہ خودکو اغوا کرنے کے بعد پالنے والی خاتون کو ہی ماں سمجھتی ہیں۔

انھوں نے سزا پانے والی خاتون کے شوہر کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں وہ اپنا والد سمجھتی ہیں۔

عدالت کے باہر زفینی کی دادی مارلین نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں مگر پر امید ہیں کہ اب ان کے خاندان کو زیفینی کے ساتھ تعلق بنانے کے لیے موقع ملا ہے۔

جج نے ملزمہ سے کہا کہ ان کے پاس موقع تھا کہ وہ بچی کو والدین کو واپس لوٹا دیتیں لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سال بچی کے والدین اس کی سالگرہ مناتے تھے لیکن ملزمہ نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ حقیقی والدین گمشدہ بیٹی کی راہ تک رہے ہیں بچی کو واپس نہیں لوٹایا۔

جج کے مطابق ملزمہ کی جانب سے جرم کا اعتراف نہ کرنا اور خود کو مظلوم کہنا ان کے ہی خلاف گیا۔

.

اسی بارے میں