نیویارک: امامِ مسجد کے قتل کے ملزم پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امام مسجد اور نائب امام کے جنازے میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے

پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی شہر نیویارک میں سنیچر کو ایک امامِ مسجد اور ان کے نائب کی ہلاکت کے سلسلے میں ایک شخص پر فردِ جرم عائد کر لی ہے۔

آسکر موریل نامی 35 سالہ شخص پر قتل کے علاوہ مجرمانہ طور پر اسلحہ رکھنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سنیچر کو 55 سالہ امام مولانا اخون جی اور ان کے 64 سالہ نائب ثرا‏ء الدین کو نیویارک کے علاقے کوینز میں سر میں گولی ماری گئی تھی۔ وہ نماز کے بعد وہاں سے گزر رہے تھے۔

بعض نمازیوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نفرت پر مبنی ہے، لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں کہ انھیں ان کے مذہب کی بنا پر نشانہ بنایا گيا ہے۔

اس فائرنگ کے بعد نیویارک سٹی کے میئر بل ڈی بلاسیو نے کہا کہ ’مسلمان تعصب کے مستقل سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔‘

نیویارک پولیس نے سوموار کو کہا کہ مسٹر موریل کے خلاف دوسرے درجے کے قتل کے تحت دو واقعات کے لیے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس نے امام مسجد کے قاتل کا خاکہ بھی جاری کیا تھا

انھیں اتوار کو فائرنگ کے بعد ایک ٹریفک حادثے میں گرفتار کیا گيا تھا۔

سی سی ٹی وی کیمرے میں دیکھا گيا کہ فائرنگ کرنے والا شخص ایک کار سے فرار ہو رہا ہے۔ دس منٹ بعد اسی طرح کی ایک گاڑی نے کئی میل کے فاصلے پر ایک سائیکل سوار کو ٹکر مار دی، جس کے بعد پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔

پولیس نے قتل کے مقاصد کے متعلق کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

سوموار کو سینکڑوں مسلمان ان دونوں مقتولین کے جنازے میں شریک ہوئے۔

امریکی میڈیا کے مطابق مولانا اخون جی دو سال قبل بنگلہ دیش سے امریکہ آئے تھے۔ اُن کے دوستوں نے بتایا کہ نماز پڑھانے کے بعد جیسے ہی امام مسجد باہر نکلے اُنھیں گولی مار دی گئی۔ اس مسجد میں اوزون پارک میں آباد بنگلہ دیش کی کثیر آبادی آتی ہے۔

گذشتہ سال نیویارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ پیرس اور سین برنانڈینو کے حملے کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت کے واقعات میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں