شمالی کوریا کا سفارت کار کسی ’دوسرے ملک‘ روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ لندن میں شمالی کوریا کے سفارتخانے کے ایک اہلکار منحرف ہو کر کسی دوسرے ملک چلے گئے ہیں۔

شمالی کوریا کے ذرائع ابلاغ میں چلنے والی خبروں کے مطابق یہ اہلکار رواں ماہ کے آغاز میں ہی سفارتخانے کو چھوڑ کر ’کسی دوسرے ملک‘ چلے گئے تھے۔

شمالی کوریا کے دفتر خارجہ نے اہلکار کے مبینہ طور پر منحرف ہونے کی خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم یہ اشارہ ضرور دیا ہے کہ وہ ان خبروں کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

٭ شمالی کوریا کے کرنل منحرف ہو کر جنوبی کوریا آگئے

بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رابنز کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق یہ سفارتکار گذشتہ دس سالوں سے اپنی اہلیہ اور خاندان والوں کے ساتھ برطانیہ میں رہ رہے تھے۔

مغربی لندن میں واقع ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا کے سفارتخانے میں اس حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی فون کالز کا جواب نہیں دیا گیا۔

جنوبی کوریا کے اخبار جونگ آنگ البو کے مطابق: ’ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا کے لندن میں سفارتکار کسی تیسرے ملک میں پناہ حاصل کرنے کے طریقۂ کار سے گزر رہے ہیں۔‘

اخبار کا مزید کہنا ہے کہ ’کسی تیسرے ملک کا مطلب ہے کہ وہ شمالی اور جنوبی کوریا نہیں ہے۔‘

لندن کے تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس میں ایشیا کے امور کے ماہر جان نلسن ورائٹ کا کہنا ہے کہ ’اگر اعلیٰ درجے کے اس انحراف کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ حکومت کے لیے انتہائی شرمندگی کی بات ہوگی۔‘

اسی بارے میں