گوانتاناموبے سے قیدیوں کی سب سے بڑی منتقلی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پینٹاگون کے مطابق گوانتاناموبے جیل سے ان 15 قیدیوں کی رہائی کے بعد اب وہاں قیدیوں کی تعداد کم ہو کر 61 رہ گئی ہے

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے گوانتاناموبے جیل سے 15 قیدیوں کو متحدہ عرب امارات واپس بھیج دیا ہے جو صدر براک اوباما کے دورِ اقتدار کے دوران سب سے بڑی منتقلی ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان 15 قیدیوں میں سے 12 کا تعلق یمن سے، جب کہ تین کا تعلق افغانستان سے ہے۔

٭ گوانتانامو کے پانچ یمنی قیدی عمان اور ایسٹونیا روانہ

٭ گوانتانامو کے پانچ قیدیوں کی قزاقستان روانگی

پینٹاگون کے مطابق گوانتاناموبے جیل سے ان 15 قیدیوں کی رہائی کے بعد اب وہاں قیدیوں کی تعداد کم ہو کر 61 رہ گئی ہے۔

گوانتاناموبے جیل کے قیدیوں میں سے متعدد کو ایک دہائی سے زائد عرصے تک بغیر کسی جرم یا مقدمے کے لیے قید رکھا گیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما سنہ 2002 میں قائم کی جانے والی گوانتاناموبے جیل کو اپنے عہدۂ صدارت چھوڑنے سے قبل بند کرنا چاہتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ حکومت گوانتاناموبے جیل میں باقی رہ جانے والے قیدیوں کو امریکہ منتقل کرنا چاہتی ہے تاہم کانگریس اس کی مخالفت کر تی ہے۔

صدر اوباما کا خیال ہے کہ گوانتانامو بے سے جہادیوں کو امریکہ مخالف جذبات بھڑکانے میں مدد ملتی ہے۔

ٹرمپ کا عہد

اس کے برعکس رپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے گوانتانامو کو کھلا رکھنے کا عہد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے ’برے لوگوں‘ سے بھر دیں گے اور ’واٹربورڈنگ سے کہیں بدتر‘ چیزیں واپس لے آئیں گے۔

واضح رہے کہ واٹر بورڈنگ قیدیوں سے تفتیش کا متنازع طریقہ ہے جسے انسانی حقوق کے ادارے تشدد قرار دیتے ہیں۔

ادھر متعدد رپبلکنز نےگوانتاناموبے میں باقی رہ جانے والے قیدیوں کی امریکہ منتقلی کی مخالفت کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ بہت خطرناک قیدی ہیں اور ان کی سویلین جیلوں میں جگہ نہیں بنتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے گوانتانامو کو کھلا رکھنے کا عہد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسے ’برے لوگوں‘ سے بھر دیں گے

امریکہ کی خارجہ امور کمیٹی کے رپبلکن چیئرمین ایڈ رائس نے گوانتاناموبے جیل سے قیدیوں کی رہائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’ایک بار پھر ایسے سخت گیر شدت پسندوں کو رہا کیا جا رہا ہے جو غیر ملکی ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔‘

امریکہ کے ڈائریکٹر آف انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کے دورِ حکومت میں میں رہا کیے جانے والے 21 فیصد قیدیوں میں سے پانچ فیصد نے شدت پسندی میں حصہ لیا۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل یو ایس کی پروگرام ڈائریکٹر نورین شاہ نے صدر اوباما پر زور دیا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے پہلے پہلے گوانتاناموبے بند کروا دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ’ایک بےحد خطرناک اور اہم مقام پر ہیں۔‘

پینٹاگون کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’امریکی حکومت انسانی بنیادوں پر گوانتانامو بے کے حراستی مرکز کو بند کرنے کی حالیہ امریکی کوششوں کی حمایت کرنے پر متحدہ عرب امارات کی حکومت کی شکر گزار ہے۔‘

اپریل میں نو یمنی قیدیوں کو سعودی عرب منتقل کیا گیا تھا۔

گوانتاناموبے جیل جنوب مشرقی کیوبا میں امریکی بحری اڈے پر واقع ہے۔

یہ حراستی مرکز امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے امریکہ میں 11 ستمبر سنہ 2011 کے حملوں کے بعد غیر ملکی مشتبہ شدت پسندوں کے لیے قائم کیا تھا۔

اس مرکز پر سالانہ چار کروڑ 45 لاکھ ڈالر کی لاگت آتی ہے اور ایک موقعے پر یہاں 700 قیدیوں کو رکھا گیا تھا۔

اسی بارے میں