’شام کی جیلوں میں چار برس میں تقریباً 18 ہزار ہلاکتیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اکثر قیدیوں کو جیلوں میں آنے کے فوراً بعد محافظوں کی جانب سے شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑا

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں زیر حراست افراد پر مبینہ طور پر جیلوں میں تشدد اور ریپ کے باعث چار برس میں تقریباً 18 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق سرکاری جیلوں میں ہونے والی یہ ہلاکتیں سنہ 2011 سے 2015 کے درمیان ہوئی ہیں۔

ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ اس کی رپورٹ میں 65 کے قریب ان افراد کے انٹرویو شامل ہیں جنھیں خود ’تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا،‘ اور انھی نے حراستی مراکز اور جیلوں میں ہونے والے خوفناک پرتشدد واقعات کے بارے میں بتایا ہے۔

تنظیم نے عالمی برادری سے درخواست کی ہے کہ وہ شام پر تشدد کا استعمال ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں تاہم شامی حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

ایمنیسٹی کی جانب سے یہ رپورٹ جمعرات کے روز شائع کی گئی ہے جس کا نام ’اٹ بریکس دا ہیومن‘ ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق مارچ 2011 سے 2015 کے درمیان شامی صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت کے آغاز کے بعد سے 17723 سے زائد قیدی ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس تناسب سے ہر روز دس اور ہر ماہ تین سو کے قریب لوگ مر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ کے مطابق خواتین قیدیوں کو مرد محافظوں کی جانب سے ریپ اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے

اکثر قیدیوں کو جیلوں میں آنے کے بعد محافظوں کی جانب سے شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے ’استقبالیہ پارٹی‘ کہا جاتا ہے۔

ادارے کے مطابق: ’اس کے بعد اکثر ’تلاشی کا عمل‘ شروع ہوتا ہے جس کے دوران خاص طور پر خواتین کو مرد محافظوں کی جانب سے ’ریپ اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

ایک قیدی ثمر نے ایمنیسٹی کو بتایا: ’وہ ہمارے ساتھ جانوروں جیسا برتاؤ کرتے تھے، وہ جہاں تک ممکن ہو لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتے ہیں۔‘

ثمر نے مزید بتایا کہ ’میں نے خون یوں بہتے دیکھا، جیسے کوئی دریا ہو۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ انسانیت اس قدر گر جائے گی۔ ہمیں کبھی بھی کہیں بھی مارنے میں انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔‘

ایک اور قیدی زیاد (فرضی نام) نے بتایا کہ کیسے خفیہ ایجنسی کے حراستی مرکز میں ہوا بند ہونے سے ایک ہی دن میں سات افراد ہلاک ہوگئے۔

زیاد نے بتایا کہ ’انھوں نے ہمیں لاتیں مارنا شروع کر دیں تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ کون مر گیا ہے اور کون زندہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ OTHER
Image caption ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ اس کی رپورٹ 65 قیدیوں کے انٹرویوز پر مشتمل ہے

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ڈائریکٹر فلپ لوتھر کا کہنا ہے کہ ’کئی دہائیوں تک شام کی حکومتی فورسز اپنے مخالفین کو ختم کرنے کے لیے تشدد کا استعمال کرتی رہی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آج کل اسے کسی بھی ایسے شخص جس پر حکومت کی مخالفت کا شبہ ہو، اس کے خلاف ایک نظام کے طور پر عام شہریوں پر حملے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے انسانیت کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

ایمنیسٹی اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ان الزامات پر عالمی برادری کی جانب سے بات کی جانی ضروری ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور روس جو شام کے تنازعے پر امن مذاکرات میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں