’ایران کو رقم کی ادائیگی کا تعلق قیدیوں کی رہائی سے تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے ایران کو ادا کی جانے والی 40 کروڑ ڈالر کی نقد رقم پانچ امریکی قیدیوں کی رہائی کے ’مقصد کے حصول‘ کے لیے استعمال کی گئی تھی۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ رقم کی ادائیگی کے بارے میں مذاکرات قیدیوں کی رہائی سے الگ ہوئے تھے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس رقم کی ادائیگی امریکیوں کے ایران سے نکل جانے تک روک کر رکھی گئی تھی۔

٭ ایران کی قید سے چار امریکی رہا، پابندیاں اٹھنے کا انتظار

٭ایران پر تاریخی پیش رفت سفارت کاری سے ہوئی: اوباما

٭ ’ایران کو 40 کروڑ ڈالر کی ادائیگی تاوان نہیں تھی‘

خیال رہے کہ جنوری میں ایران میں قید پانچ امریکی کو سات ایرانی قیدیوں کے بدلے میں رہا کیے گئے تھے۔

امریکہ نے اسی روز 40 کروڑ ڈالر کی رقم بذریعہ جہاز ایران پہنچائی تھی۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کی تردید کی تھی کہ یہ رقم قیدیوں کی رہائی کے لیے تاوان کے طور پر ادا کی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ اس رقم کی ادائیگی سے ایران میں سنہ 1979 کے انقلاب سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک طویل عرصے سے زیرالتوا تنازع حل ہوگیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ ایران کو 40 کروڑ ڈالر کے مساوی رقم کی ادائیگی تاوان کی مد میں نہیں کی گئی تھی

جان کربی کا یہ بیان وال سٹریٹ جرنل کی اس رپوٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ نقد رقم کی ادائیگی ایران سے قیدیوں کے جہاز کی روانی پر منحصر تھی۔

یاد رہے کہ جنوری میں امریکہ کی جانب سے سات ایرانی قیدیوں کو معافی دینے اور 14 کے ورانٹ منسوخ کرنے کے بعد ایران نے پانچ امریکی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

اِن کی رہائی کے فوری بعد امریکہ نے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے سوئس فرانک اور یورو ڈبوں میں بند کر کے ہوائی جہاز کے ذریعے ایران بھجوائے تھے۔

اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ایران نے یہ رقم فوجی سازو سامان کی خریداری کے لیے دی تھی لیکن انقلابِ ایران کے بعد یہ فروخت روک دی گئی اور اب اس سلسلے میں لی گئی رقم واپس کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں