شام: ’حسکہ میں شامی فوج کی مسلسل دوسرے روز بمباری‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہسکہ میں امریکی خصوصی افواج کے دستوں کو شامی افواج کی فضائی بمباری سے بچانے کے لیے امریکی جنگی طیارے بھیجے گئے: پینٹاگون (فائل فوٹو)

شام کے شہر حسکہ میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج کے جنگی طیارے دو روز سے کرد علاقوں میں بمباری کر رہے ہیں۔

مبینہ طور پر صدر بشار الاسد کی افواج کی جانب کی جانے والی بمباری سے ہزاروں افراد نے اپنے گھروں سے نقل مکانی کی ہے۔

خیال رہے کہ حسکہ شامی کرد ملیشیا وائی پی جی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں شامی فوج کا کہنا تھا کہ کرد جنگجوؤں کی جانب سے اشتعال انگیزی کا مناسب انداز میں جواب دیا گیا ہے۔

٭ حلب کے زخمی بچے کی تصویر پر غم و غصہ

٭ دولتِ اسلامیہ ’انسانی ڈھال‘ استعمال کر کے شہر سے فرار

دوسری جانب پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں قائم فوجی اتحاد نے جمعرات کو زمین پر موجود اتحادی افواج کو شامی فوجوں کی بمباری سے بچانے اور ان کے وہاں سے انخلا کے لیے طیارہ بھیجا ہے۔

خیال ہے کہ وائی پی جی کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے اور وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف سرگرم ہے تاہم حال ہی میں اس نے حسکہ صوبے میں کئی اضلاع میں حکومتی قبضہ ختم کیا ہے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ حسکہ میں امریکی خصوصی افواج کے دستوں کو شامی افواج کی فضائی بمباری سے بچانے کے لیے امریکی جنگی طیارے بھیجے گئے تھے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے جب اس کے طیارے آئے تو اس وقت شامی جنگی طیارے واپس لوٹ رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہسکہ شامی کرد ملیشیا وائی پی جی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے (فائل فوٹو)

پیٹاگون کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس کا کہنا تھا کہ امریکہ نے شام کو اس کے روس کے ساتھ مواصلاتی چینل کے ذریعے بتایا تھا کہ اسے اتحادی افواج کا دفاع کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ امریکہ صدر براک اوباما نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں مقامی ملیشیا کی مدد کے لیے خصوصی فوجی دستے تعینات کرنے کی اجازت دی تھی تاہم انھوں نے زمینی فوج بھیجنے سے مسلسل انکار کیا تھا۔

شام کے سرکاری ٹی وی پر جاری ہونے والے بیان میں شامی فوج کی جانب سے کرد جنگجوؤں پر ’سرکاری املاک پر حملہ کرتے، تیل اور کپاس چوری کرنے، امتحانات میں خلل ڈالنے، غیرمسلح شہروں کو اغوار اور عدم استحکام پھیلانے‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔،

بیان میں کہا گیا کہ فوج کی جانب سے ان عوامل کا مناسب جواب دینے کی ضرورت تھی۔

ادھر حسکہ میں موجود ایک کرد صحافی ہیبر عثمان نے بی بی سی کو بتایا کہ شامی حکومت نے پہلی بار اس شہر پر فضائی کارروائی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں صحیح تعداد معلوم نہیں لیکن 12 کے قریب شہری ہلاک اور 33 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔‘

اسی بارے میں