دولتِ اسلامیہ ’انسانی ڈھال‘ استعمال کر کے شہر سے فرار

تصویر کے کاپی رائٹ SDF
Image caption شہریوں کو بچانے کے لیے جنگجوؤں کو منبج سے نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی: سیریئن ڈیموکریٹک فورس

شام میں فضا سے لی گئی تصاویر سے پتہ چلتاہے کہ شمالی شہر منبج میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔

شام کی افواج کا کہنا ہے کہ جمعے کو لی گئی ان تصاویر میں سینکڑوں گاڑیوں کا قافلہ دکھائی دے رہا ہے۔

امریکہ کے حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوؤں نے ہر گاڑی میں عام شہریوں کی موجودگی کے بعد حملہ نہیں کیا تاکہ غیر ضروری جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ شدت پسند شمال کی جانب ترکی کی سرحد کی طرف روانہ ہوئے ہیں۔

شام کی افواج نے دس ہفتے کی لڑائی کے بعد منبج پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

بغداد میں امریکی قیادت میں اتحادی افواج کے ترجمان کرنل کریس گارور نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ان علاقے پر اُن کا کنٹرول ہونے ہی والا تھا۔ دولتِ اسلامیہ کے ایک سو سے دو سو تک شدت پسند اپنے خاندانوں کے ساتھ وہاں جمع تھے اور انھوں نے عام شہریوں کو مغوی بنایا ہوا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد شدت پسندوں نے اپنی ہر گاڑی میں کم سے کم ایک شہری کو بٹھایا اور اُن کا قافلہ شمال کی جانب رواں دواں تھا کہ اتحادی افواج نے اُن کا سراغ لگایا۔

’ہمیں اُن سے غیر جنگجوؤں کی طرح ہی نمٹنا تھا۔ ہم اُن پر گولی نہیں چلا سکتے تھے۔ ہم نے بس اُن پر نظر رکھی ہوئی تھی۔‘

بعض اطلاعات کے مطابق سنیچر کو سینکڑوں شہریوں رہا کروایا گیا جبکہ کئی دوسرے روپوش ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SDF

لڑائی کے دوران سیریئن ڈیموکریٹ فورس نے شہریوں کو بچانے کے لیے جنگجوؤں کو منبج سے نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔

کرنل گارور نے کہا کہ جہادیوں نے ’شہریوں کو لڑائی کے درمیان لا کر پھینکا وہ اُنھیں اپنے پروپگنڈے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔‘

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے جون میں بھی اپنے بڑے قافلے کے ہمراہ عراقی شہر فلوجہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی لیکن عراق میں اتحادی افواج کے جنگی طیاروں نے اُن پر بمباری کی اور اُن کی 175 گاڑیاں تباہ کر دیں۔

اسی بارے میں