شادی کی تقریب میں دھماکہ ’بارہ سے چودہ سالہ لڑکے‘ نے کیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ سنیچر کی شب غازی عنتب شہر میں شادی کی ایک تقریب میں ہونے والا دھماکہ ایک خودکش حملہ تھا جو بارہ سے چودہ سال کے ایک لڑکے نے کیا تھا۔

صدر رجب طیب اردوغان نے اس دھماکے کا الزام شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر عائد کیا ہے۔

استنبول کے ہوائی اڈے پر حملہ

٭’ہم امید کر رہے تھے کہ بس یہ آحری دھماکہ ہو‘

شام کی سرحد کے قریب واقع شہر غازی عنتب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے کئی خفیہ سیل موجود ہیں۔

شادی کی تقریب پر حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے صدر ارودغان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں 50 افراد ہلاک جبکہ 69 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 17 بری طرح زخمی ہیں۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب شادی میں شریک لوگ گلی میں رقص کر رہے تھے۔

غازی عنتب سے تعلق رکھنے والے بی بی سی کے نامہ نگار سیریف ایسلر کا کہنا ہے کہ سرحد پار شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے پندرہ لاکھ آبادی کا یہ شہر ایک عرصے سے خطرے کی زد میں تھا کیونکہ شام میں دولتِ اسلامیہ اور کُرد شامیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

صدر رادوغان کے بیان سے قبل حکام نے بتایا تھا کہ اس حملے میں ہلاکتوں کی کم ازکم تعداد 50 ہو چکی ہے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور نے شہر کی ایک گلی میں ہونے والی شادی کی تقریب کو اس وقت نشانہ بنایا جب لوگ رقص کر رہے تھے۔

غازی عنتب شام کی سرحد سے 64 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہاں بہت سی یونیورسٹیوں کے طالب علم رہائش پذیر ہیں۔

یاد رہے کہ مئی میں اس شہر میں ایک خود کش بمبار نے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔

کرد نواز سیاسی جماعت ’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘ کا کہنا ہے اس حملے میں کرد برادری کی شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ترک صدر کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں صدر نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ اور ’پی کے کے‘ کےکرد جنگجوؤں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے لیے ایک ہی پیغام ہے کہ ’تم کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

صدر طیب اردوغان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے حملوں کا مقصد ترکی کی مختلف نسلی اور مذہبی برادریوں کے درمیان تقسیم کے بیج بونا ہے۔

’ہر جانب خون ہی خون تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دھماکے کے نتیجے میں مکانات کو بھی نقصان پہنچا

موقع پر موجود 25 سالہ ویلی کین کا کہنا تھا کہ شادی کی تقریب اپنے اختتام کے قریب تھی کہ دھماکہ ہوگیا۔ ’ہرجانب خون اور جسمانی اعضا پڑے تھے۔‘

ادھرنائب وزیراعظم محمت سیمسک نے کہا ہے کہ یہ حملہ وحشیانہ حملہ تھا مگر ان کی حکومت حالات کا مقابلہ کرے گی اور اس سے نمٹ لے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار سیریف اسلر کے مطابق غازی عنتاب شامی سرحد کے قریب واقع ہے تاہم زیادہ وحشت ناک بات یہ ہے کہ ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ترکی میں شادی کی تقریبات کو بہت مقدس اور خوشی کا موقع سمجھا جاتا ہے اور حالیہ حملے سے لوگ بہت خوفزدہ ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اب تک کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔

حال ہی میں شمالی شام میں جہادیوں کے قبضے سے منجیب سمیت ممتعدد علاقے واپس لیے گئے ہیں۔ اور اب شامی باغی جرابلس کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔

اس سے قبل ترکی نے کہا تھا کہ شام میں جاری جنگ کو ختم کرانے کے لیے وہ زیادہ موثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور صدر بشار الاسد کو عبوری طور پر تسلیم کرتے ہیں لیکن طویل مدتی رہنما کے طور پر نہیں۔

ترکی کی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ’بشار الاسد کا شام کے مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انھوں نے کہا ’ہمیں پسند ہو یا نہ ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ بشار الاسد کا موجودہ شام میں ایک اہم کردار ہے۔‘

ترکی کے وزیر اعظم نے کہا کہ ’اگلے چھ ماہ میں ترکی شام میں جنگ بند کرانے کے لیے زیادہ موثر کردار ادا کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شام کو لسانی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شام میں سیاسی حل میں بشار الاسد، پی کے کے یا اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کو شامل نہیں کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں