شامی بچے عمران دقنیش کےزخمی بھائی کی ہلاکت

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حلب کبھی شام کا تجارتی اور صنعتی مرکز تھا لیکن اب وہ منقسم ہے

شامی بچے عمران دقنیش کی خاک و خون میں لتھڑی ہوئی تصویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ رضاکاروں نے بتایا ہے کہ اس کے بڑے بھائی علی زخموں کی تاب نہ لاسکے اور ان کی موت ہو گئی ہے۔

٭ حلب کے زخمی بچے کی تصویر پر غم و غصہ

٭ شامی ڈاکٹروں کی صدر اوباما سے مدد کی درخواست

خیال رہے کہ حلب میں ان کا گھر جب بمباری کی زد میں آیا تھا تو وہ زخمی ہوئے تھے۔

’سیریا سولیڈیریٹی کمپین‘ یعنی شام کی اتحاد مہم تنظیم نے کہا کہ ’دس سالہ علی روس/ بشار الاسد کے ذریعے کی جانے والی بمباری کے سبب زخموں کی تاب نہ لا کر آج چل بسا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عمران دقنیش کی اس تصویر کے بعد دنیا نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا

روس اور شام کے جنگي طیاروں نے باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر شدید حملہ کیا تھا۔

عمران کے گھر کو جب نشانہ بنایا گیا تھا تب اس کی مٹی اور خون میں لتھڑی ہوئی تصویر اتاری گئي تھی۔

یہ تصویریں حلب میں پھنسے ہوئے شہریوں کی مشکلات اور پریشانیوں کی عکاس ہیں اور ان پر دنیا بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

حلب کے ایک نامعلوم عینی شاہد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 17 اگست کو ہونے والی بمباری میں علی دقنیش کے اعضا کو نقصان پہنچا تھا اور جسم کے اندرونی حصے میں خون کا رسنے لگا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عام شہری مختلف علاقوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں

مشرق وسطی کے ایک نامہ نگار کریم شاہین نے ٹویٹ کیا ہے کہ انھوں نے ’عمران دقنیش کے ڈاکٹر سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کا بھائی انھی زخموں کے سبب مرا ہے جو زخم انھیں حملے کے دوران آئے تھے۔‘

خیال رہے کہ حلب کبھی شام کا تجارتی اور صنعتی مرکز ہوا کرتا تھا وہ سنہ 2012 کے بعد سے دو حصوں میں منقسم ہو گيا ہے۔ حکومت کا مغربی حصے پر کنٹرول ہے تو باغیوں کا مشرقی حصے پر۔

اسی بارے میں