’تارکین وطن کی ملک بدری کا منصوبہ ترک کر سکتے ہیں‘

ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹرمپ کو اپنی ڈیموکریٹ حریف ہِلیری کلنٹن کے مقابلے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے

امریکی صدراتی انتخابات میں رپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم ایک کروڑ دس لاکھ افراد کو ملک بدر کرنے کے منصوبے کو ترک کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ کی انتخابی مہم کی مینیجر کیلی آن کونوے نے کہا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر امریکہ سے نکالنے کے منصوبے، جو ان کی انتخابی مہم کا ایک مرکزی ستون تھا، پر ابھی تک حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

اختتام ہفتہ سامنے آنے والا ان کا بیان ٹرمپ کے اپنے ہسپانوی مشیروں سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

ٹرمپ نے امریکی نیوز چینل فوکس نیوز کو بتایا کہ وہ تذبذب کا شکار نہیں بلکہ ایک منصفانہ منصوبے کے خواہشمند ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کے روز کولوراڈو میں امیگریشن پر ایک تقریر کرنے والے ہیں۔

مسٹر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے آغاز ہی سے امیگریشن کے معاملہ پر ایک سخت موقف اختیار کیا ہوا ہے۔

وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایک ’ڈی پورٹیشن فورس‘ تشکیل دیں گے اور میکسیکو کے بارڈر پر ایک دیوار تعمیر کروائیں گے اور اس کے اخراجات میکسیکو سے وصول کریں گے۔

ٹرمپ کو اپنی ڈیموکریٹ حریف ہِلیری کلنٹن کے مقابلے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے اور ان انتخابی مشکلات پر قابو پانے کے لیے وہ حالیہ دنوں میں سیاہ فام اور ہسپانوی ووٹروں سے براہ راست مخاطب ہوئے ہیں تاکہ اپنی حمایت کو سفید فام ورکنگ کلاس سے آگے تک لے جا سکیں۔

کیلی آن کونوے نے اتوار کے روز امریکی ٹی وی چینل سی این این کو بتایا کہ ’ٹرمپ چاہتے ہیں کہ قانون کے نفاذ کو یقینی بنائیں اور ان امریکیوں کا احترام کریں جو ملازمت تلاش کر رہے ہیں اور وہ جو ہمارے درمیان رہ رہے ہیں ان سے منصفانہ اور ہمدردانہ سلوک کریں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ ڈی پورٹیشن یا غیر قانونی تارکین وطن کرنے کے لیے فورس قائم کرنے کے اپنے اعلان پر قائم رہیں گے تو انھوں نے کہا کہ اس پر ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

اسی بارے میں