ترکی:’خودکش حملے کا نشانہ بننے والے زیادہ تر بچے تھے‘

غم سے نڈھال رشتہ دار تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اتوار کو حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق سنیچر کو غازی عنتب نامی شہر میں شادی کے تقریب پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔

اس دھماکے میں کل 54 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاک شدگان میں سے 29 کی عمریں 18 سال سے کم تھیں جبکہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے 22 تو 14 سال سے بھی کم عمر کے تھے۔

ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار کی عمر 12 سے 14 سال کے درمیان تھی۔ ترک صدر نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

غازی عنتب شام کی سرحد کے قریب واقع ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہاں دولتِ اسلامیہ کے خفیہ گروہ سرگرم ہیں۔

ترکی کے اخبار حریت کے مطابق سرکاری اہلکار تاحال خود کش حملہ آور کی شناخت کے سلسلے میں ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

اخبار کے مطابق حملے کے لیے جس طرح کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا وہ اس سے پہلے کرد نواز اجتماعات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دھماکے کے مزید تین زخمیوں کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 54 تک پہنچ گئی ہے

کرد جنگجو جنھیں امریکہ کی حمایت حاصل ہے شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

ترک حکام کے مطابق انھیں ان دو مشتبہ افراد کی بھی تلاش ہے جو خودکش حملہ آور کے ہمراہ آئے تھے اور حملے سے قبل وہاں سے چلے گئے تھے۔

پیر کو اپنی تقریر میں ترک وزیرِ خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے کہا ہے کہ ترک سرحد کے ساتھ واقع علاقوں سے دولتِ اسلامیہ کا مکمل صفایا کر دیا جانا چاہیے۔

ادھر پیر کو ہی دھماکے کے مزید تین زخمیوں کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 54 تک پہنچ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے دوگان کے مطابق ہلاک شدگان میں 13 خواتین بھی ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 66 ہے جن میں سے 14 کی حالت نازک ہے۔

اس سے پہلے اتوار کو حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔

نامہ نگاروں کے مطابق غم سے نڈھال رشتہ دار مرنے والوں کے تابوتوں پر گر گر کر دھاڑیں مارتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔

اسی بارے میں