راچڈیل: امام مسجد کو ’دولت اسلامیہ کے حامیوں‘ نے قتل کیا

جلال الدین تصویر کے کاپی رائٹ

ایک برطانوی عدالت کو بتایا گیا کہ راچڈیل کی ایک مسجد کے امام کو رواں سال فروری میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے دو حامیوں نے ’کالا جادُو‘ کرنے کے الزام پر قتل کیا۔

اکہتر سالہ جلال الدین کا انتقال بچوں کے ایک پارک میں حملے کے دوران سر میں آنے والے زخموں کی وجہ سے ہوا۔

مانچسٹر کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ حملہ آور، بائیس سالہ محمد حسین سعیدی اور چوبیس سالہ محمد عبدالقادر جلال الدین سے ’نفرت‘ کرنے لگے تھے۔

راچڈیل کی رمزے سٹریٹ کے رہائشی محمد حسین سعیدی نے ایک اور شخص کے ساتھ مل کر قتل کرنے کے الزام سے انکار کیا ہے۔

جیوری کا بتایا گیا کہ ملزم محمد عبدالقادر قتل کے بعد اٹھارہ فروری کو ملک سے فرار ہو گئے تھے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی شہریت رکھنے والے جلال الدین کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد پیدل گھر جا رہے تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ ملزمان سعیدی اور عبدالقادر کو مرحوم جلال الدین پر اس وقت غصہ آیا جب انھیں پتہ چلا کہ وہ تعویز گنڈھے کے مدد سے لوگوں کا علاج کرتے ہیں۔

ملزمان نے حملے سے پہلے مبینہ طور پر جلال الدین کی خفیہ نگرانی کی اور ان کے آنے جانے کے صحیح اوقات معلوم کیے۔ حملے کے دوران ان کے سر پر ہتھوڑے سے ضربیں لگائیں۔

مقدمے کی کارروائی کا آغاز کرنے ہوئے سرکاری وکیل پال گرینی نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ جلال الدین جیسے نفیس شخص سے اتنی شدت سے کون نفرت کر سکتا ہے۔

’لیکن اس اہم سوال کا جواب نام نہاد دولت اسلامیہ کی گمراہ کن آئیڈیالوجی میں ہے۔ جلال الدین روایتی اسلامی طریقے سے لوگوں کا علاج کرتے تھے جسے دولت اسلامیہ کے حامی ’کالا جادو‘ سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں اس کام سے منسلک تمام افراد سخت سزا کے مستحق ہیں جو موت بھی ہو سکتی ہے۔‘

سرکاری وکیل نے جیوری کے ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مسٹر سعیدی دعویٰ کریں گے کہ ان کا دولت اسلامیہ یا پرتشدد انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ کام اب آپ کا ہے کہ اس بات کا تعین کریں کہ ان کا دفاع صحیح ہے یا نہیں۔

’میرا کہنا یہ ہے کہ اگر ایک دفعہ آپ نے تمام شواہد کا جائزہ لے لیا تو آپ کو یقین ہو جائے گا کہ جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں وہ غلط ہے۔‘

سرکاری وکیل نے کہا کہ ان کا کیس یہ ہے کہ مسٹر سعیدی عبدالقادر کو اپنی گاڑی میں پارک کے گیٹ تک لے گئے باوجود اس کے کہ انہیں اس بات کا بخوبی علم تھا کہ وہ جلال الدین کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عبدالقادر نے جلال الدین کے سر پر زوردار ضربیں لگائیں جن کہ وجہ سے ان کے منہ پر زخم آئے اور ان کی کھوپڑی میں بھی فریکچر ہو گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ حملے کے بعد وہ پارک کے دوسرے دروازے کی طرف بھاگ گئے جہاں سعیدی ان کا انتظار کر رہے تھے۔

بعد میں دو لڑکیوں نے انھیں رات پونے نو بجے وہاں بے ہوشی کا عالم میں زمین پر پڑے ہوئے دیکھا۔ انھیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔