ترکی میں شامی سرحد کے قریب شہر کو خالی کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خیال کیا جا رہا ہے کہ ترکی میں موجود ملیشیا دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنے والی ہے

ترکی میں حکام نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے مارٹر گولے فائر کیے جانے کے بعد شامی سرحد سے متصل شہر کارکامش کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

کارکامش پر خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند تنظیم نے شام کی حدود سے گولے فائر کیے تھے۔

* ترکی کی شامی علاقے میں دولتِ اسلامیہ پر بمباری

*ترکی:’خودکش حملے کا نشانہ بننے والے زیادہ تر بچے تھے‘

اس کے بعد حکام نے لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے عام شہریوں کو شہر خالی کرنے کا حکم دیا اور انھیں شہر سے نکالنے کے لیے بسوں کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

علاقے میں شامی باغیوں کی ملیشیا جمع ہے اور اس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ جلد ہی شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کا آغاز کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے کہا ہے کہ شام کے شمالی علاقوں سے دولتِ اسلامیہ کا صفایا کر دیا جائے گا

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے کہا ہے کہ شام کے شمالی علاقوں سے دولتِ اسلامیہ کا صفایا کر دیا جائے گا۔

تاہم بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوون کا کہنا ہے کہ کارکامش سے شہریوں کا انخلا اس بات کا حتمی اشارہ نہیں ہو سکتا ہے کہ ملیشیا اپنی کارروائی شروع کرنے جا رہی ہے بلکہ یہ اقدام شہر پر دولتِ اسلامیہ کے مارٹر حملوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

ترکی اس کے ساتھ شام کے شمالی علاقے جرابلس میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بھی بمباری کر رہا ہے اور اس کا مقصد کردوں کو شہر پر قبضے سے روکنا ہے حالانکہ کرد خود اس علاقے میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔

ترکی نے سنیچر کو غازی عنتب شہر میں شادی کی ایک تقریب پر خودکش دھماکے میں 54 افراد کی ہلاکت کے بعد اتوار کو شام کے شمالی علاقے جرابلس میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم اور کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کی تھی۔

ترکی نے اپنی سرحد کے اندر سے توپ خانے کے ذریعے شامی علاقے جرابلس‎‎ اور منبج میں دولتِ اسلامیہ اور کرد ملیشیا وائے پی جی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

اسی بارے میں